انتہائی شدید جھگڑوں کے دوران میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو لفظ طلاق کہا۔ دونوں مرتبہ میں اپنے قابو میں نہیں تھا اور دونوں مرتبہ ہم فوراً صلح کر گئے۔
تیسری مرتبہ بھی ہمارا جھگڑا ہوا اور اس دفعہ میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ “ہم ختم ہو چکے ہیں”، لیکن اس وقت وہ گھر کے اندر تھی اور میں باہر جا چکا تھا، اس لیے اس نے یہ الفاظ نہیں سنے۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمارا نکاح برقرار نہیں رہا؟
میری بیوی کو یہ بتایا گیا ہے کہ غصے میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، اور اس حوالے سے سنن ابو داود کی ایک حدیث بھی بیان کی گئی ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، کیونکہ ہم دونوں اس معاملے میں سخت الجھن کا شکار ہیں۔
واضح ہو کہ عام غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے کچھ عرصہ قبل اگر صریح الفاظ "جیسے مثلاً میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے ذریعے دو طلاق دینے کے بعد بیوی سے دوران عدت رجوع کرلیا ہو تو یہ رجوع بھی درست ہوا ہے، جس کے بعد سائل کو مزید صرف ایک طلاق دینے کا حق حاصل تھاچنانچہ تیسری مرتبہ جھگڑا کرکے گھر سے نکلتے وقت سائل نے جو الفاظ"ہم ختم ہو چکے ہیں " کہے ہیں اگر سائل نے واقعۃ یہ الفاظ استعمال کئے ہو ں تو چونکہ یہ الفاظ طلاق نہیں ، اس لئے اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ اب بھی میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے اور اس کے پاس حسب سابق صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے ،جب کھبی سائل تیسری طلاق دیگا تو اس سے بیوی پر تیسری طلاق واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی، جس کے بعد رجوع بھی ممکن نہ رہے گا اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہئے۔
کما فی سنن ابی داؤد: عائشة تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا طلاق ولا عتاق في غلاق ".قال أبو داود:الغلاق أظنه في الغضب.
وفی حاشیۃ ابی داؤد: قال الخطابي: معنى الإغلاق: الإكراه، وكان عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب وابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم لا يرون طلاق المكره طلاقا، وهو قول شريح وعطاء وطاووس وجابر بن زيد والحسن وعمر بن عبد العزيز والقاسم وسالم، وإليه ذهب مالك بن أنس والأوزاعي والشافعي - وأحمد بن حنبل، وإسحاق بن راهويه.وكان الشعبي والنخعي والزهري وقتادة يرون طلاق المكره جائزا، وإليه ذهب أصحاب الرأي، وقالوا في بيع المكره: إنه غير جائز.وقال الحافظ في "التلخيص" 3/ 210: الإغلاق: فسره علماء الغريب بالإكراه، [لأن المكره يغلق عليه أمره وتصرفه] وقال: هو قول ابن قتيبة والخطابي وابن السيد وغيرهم، وقيل: الجنون، واستبعده المطرزي، وقيل: الغضب، وقع في "سنن أبي داود" في رواية ابن الأعرابي، وكذا فسره أحمد، ورده ابن السيد، فقال: لو كان كذلك لم يقع على أحد طلاق، لأن أحدا لا يطلق حتى يغضب، وقال أبو عبيد: الإغلاق: التضييق.( باب فی الطلاق علی غلط ج:3،ص:515، ،مط:الرسالۃ العالمیۃ)
وفی الدر المختار : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش، کتاب الطلاق، ج :3 ،ص:مط : ایچ ایم سعید )
وفیہ ایضاً: قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي اھ (کتاب الطلاق باب رکن الطلاق، ج:3،ص230،مط:ایچ ایم سعید)