السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جناب مفتی صاحب ، میرا بھائی جس کا نام ۔۔۔ہے جو شادی شدہ ہے اور دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، شادی کو ابھی چار سال ہی گزرے ہیں ، ابھی کچھ دن قبل اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ایسا سخت جھگڑا ہواکہ بات مار پیٹنے تک آگئی ،اس کی بیوی اس کے سینے پر بیٹھ گئی، بھائی کو اتنا زیادہ غصہ آیا کہ وہ مارنے کے لئے کچن سے قینچی بھی اٹھا لایا، اسے انتہائی درجہ کا غضب تھا، ایسا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور غصے کی یہ کیفیت پہلے بھی کئی بار ہوئی ہے ،جس میں اس نے قیمتی اشیاء کا بہت نقصان کیا ہے، اسی انتہائی غضب وغصہ اور لا علمی کی حالت میں اس نے تین سے زائد مرتبہ طلاق طلاق طلاق بول دیا، اب بہت اپنے کیے پر نادم ہے، میں نے ایک تحریر پڑھی تھی جس میں لکھا تھا انتہائی غصہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ملاحظہ فرمائیے:
انتہائی درجہ کا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، شائع کردہ مسلم پرسنل لا بورڈ، صفحہ ۱۳۳)
اسلامی قانون متعلق پرسنل لاء میں ہے کہ:
’’دفعہ ۹ ۔۔۔ غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر غصہ اس درجہ کا ہو کہ ہوش وحواس باقی نہ رہ گئے ہوں اور بوقت طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میری زبان سے کیا بات نکل رہی ہے تو اس حال میں دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
وللحافظ ابن قیم الحنبلی رسالۃ فی طلاق الغضبان قال فیہا انہ علی ثلاثۃ اقسام:
احدہا: ان یحصل لہ مبادئ الغضب بحیث لا یتغیر عقلہ ویعلم ما یقول ویقصدہ، وہذا لا اشکال فیہ۔
الثانی: ان یبلغ النہایۃ فلم یعلم ما یقول ولا یرہ، فہذا لا ریب انہ لا ینفذ شئ من اقوالہ۔
الثالث: من توسط بین المرتبتین بحیث لم یصر کالمجنون، فہذا محل النظر والادلۃ تدل علی عدم نفوذ اقوالہ، ملخصا من شرح النقایۃ الحنبلیۃ، لکن اشار فی الغایۃ الی مخالفتہ فی الثالث حیث قال: ویقع طلاق من غضب خلافا لابن القیم وہذا الموافق عندنا لما مر فی المدہوش (رد المحتار، کتاب الطلاق، صفحہ ۵۸۷، جلد ۲)
(اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، صفحہ ۱۷۴)
https://alsharia.org/2013/feb/aik-majlis-teen-talaqain-mufti-fazeelurrehman-usmani
حضرت کیا گنجائش کی کوئی صورت نکل سکتی ہے، کہ دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی اپنے بچوں کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں ؟
واضح ہو کہ یہ مسئلہ اپنی جگہ درست ہے کہ جب غصہ میں اتنی شدت آ جائے کہ عقل وقتی طور پر زائل ہو جائے تو ایسی حالت میں زبان سے اگر طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ آیا واقعۃََ سائل کے بھائی کی بھی عقل زائل ہونے کی کیفیت ہو گئی تھی یا نہیں؟ اور اس پر بھی یہ حکم لاگو ہوگا یا نہیں؟ اس کے لیے سائل کے بھائی پر لازم ہے کہ کسی مستند اور ماہر مفتی کے پاس حاضر ہو تاکہ مفتی صاحب ان سے بالمشافہ بات کرکے اور مختلف سوالات کرکے فیصلہ کر سکے۔ محض غصے کی شدت میں آ کر نتائج کی طرف توجہ نہ جانے کی بنا پر کوئی ناپسندیدہ کام (مثلاً قتل و طلاق اور توڑ پھوڑ وغیرہ) کر لینے کو عقل کا زائل ہونا نہیں کہتے بلکہ اسکو شدتِ غضبان اور غفلت کہتے ہیں۔ اس لیے اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
و في بذل المجهود في حل سنن أبي داود:وقيل: الغضب. وقع ذلك في "سنن أبي داود" في رواية ابن الأعرابي، وكذا فسره أحمد، ورده ابن السيد، فقال: لو كان كذلك لم يقع على أحد طلاق؛ لأن أحدًا لا يطلق حتى يغضب(باب: في الطلاق على غلط،ج:٨،ص:١٧٩)
و في الفتح البارى: وقال إن طلاق الناس غالبا إنما هو في حال الغضب وقال بن المرابط الإغلاق حرج النفس وليس كل من وقع له فارق عقله ولو جاز عدم وقوع طلاق الغضبان لكان لكل أحد أن يقول فيما جناه كنت غضبانا اه(قوله باب الطلاق في الإغلاق والكره،ج:٩،ص:٣٨٩،مط:المكتبة السلفية)
و في الفقه الاسلامي وادلته للزحيلى:طلاق الغضبان: يفهم مما ذكر أن طلاق الغضبان لا يقع إذا اشتد الغضب، بأن وصل إلى درجة لا يدري فيها ما يقول ويفعل ولا يقصده. أو وصل به الغضب إلى درجة يغلب عليه فيها الخلل والاضطراب في أقواله وأفعاله، وهذه حالة نادرة. فإن ظل الشخص في حالة وعي وإدراك لما يقول فيقع طلاقه، وهذا هو الغالب في كل طلاق يصدر عن الرجل؛ لأن الغضبان مكلف في حال غضبه بما يصدر منه من كفر وقتل نفس وأخذ مال بغير حق وطلاق وغيرها.( شروط الركن الأول وهو المطلِّق،ج:٩،ص:٦٨٨٢،مط:دار الفكر)