میری شادی کو آٹھ ماہ ہو چکے ہیں، اور اس قلیل عرصے میں میرے شوہر مجھے متعدد مرتبہ طلاق کی دھمکی دے چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ طلاق کی دھمکی شادی کے صرف ایک ماہ بعد دی گئی، اور ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر انہوں نے ایک طلاق دے بھی دی۔ بعد ازاں انہوں نے معافی مانگی اور رجوع کر لیا۔
لیکن اس کے بعد بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔ جب بھی وہ کسی غلطی پر ہوتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، یا ان کی کسی سابقہ تعلق/لڑکی کا معاملہ سامنے آتا ہے اور میں اس پر سوال کرتی ہوں، تو وہ مجھے خاموش کرانے، ڈرانے اور دباؤ میں لانے کے لیے طلاق کی دھمکی دینے لگتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں غلطی انہی کی ہوتی ہے، مگر الزام مجھ پر ڈال دیا جاتا ہے اور طلاق کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
اس مسلسل رویّے نے مجھے ذہنی اور جذباتی طور پر انتہائی تھکا دیا ہے۔ آخری مرتبہ تو خوف کے عالم میں میں گھر سے اس حال میں نکل گئی کہ کہیں وہ دوبارہ طلاق کے الفاظ ادا نہ کر دیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ وہ الگ کمرے میں سوتے ہیں اور مجھ سے بات چیت بھی بند کر رکھی ہے۔ میں صرف کھانے کے بارے میں پوچھ لیتی ہوں، اس کے علاوہ کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔
بار بار طلاق کے الفاظ سننے کی وجہ سے میرے دل میں ان کے لیے شدید بددلی اور بے قدری پیدا ہو چکی ہے، اور وہ میری نظروں میں بھی گر چکے ہیں۔ میں اس صورتِ حال میں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوں اور سمجھ نہیں پا رہی کہ شرعی اور اخلاقی اعتبار سے مجھے کس طرح اس معاملے کو سنبھالنا چاہیے۔
براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح طلاق کی دھمکی دینا شریعت کی نظر میں کیا حیثیت رکھتا ہے، اور میرے لیے اس صورتِ حال میں درست اور مناسب راستہ کیا ہے۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اورحقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور جھوٹ کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا بیوی کو ڈباؤ میں لانے کیلئے طلاق کی دھمکی دینا ،نامحرم عورتوں میں دلچسپی رکھنا، اور حسن سلوک سے پیش نہ آنا شرعاً و اخلاقاً درست طرز عمل نہیں جس کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیاں مزید دوریاں پیداہونے کا اندیشہ ہے اس لئے اولا ًتو اسے اپنے اس غیر شرعی طرز عمل اور رویہ سے اجتناب اور نامحرم لڑکیوں سے بات چیت اور تعلق کو مکمل طور پر ختم کرنا لازم ہے ،اسی طرح سائلہ کوبھی چاہئے کہ اگر وہ اس غیر شرعی امور کو ترک کرنے کا ارادہ رکھتاہے ،یا ترک کرچکاہےتو اس کی ماضی کی باتوں کے بارے میں اسے باربار سوالات کر کے مزید غصہ دلانےسے احترازکرے تاکہ گھر کا سکون برباد نہ ہو ،اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے بہتری کے لیے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔
وفي بدائع الصنائع: قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228](ج: 2 ص :334 ، فصل المعاشرۃ بالمعروف ناشر: سعید)
وفیہ : ولأن شرع الطلاق في الأصل لمكان المصلحة؛ لأن الزوجين قد تختلف أخلاقهما وعند اختلاف الأخلاق لا يبقى النكاح مصلحة؛ لأنه لا يبقى وسيلة إلى المقاصد فتنقلب المصلحة إلى الطلاق ليصل كل واحد منهما إلى زوج يوافقه فيستوفي مصالح النكاح منه إلا أن المخالفة قد تكون من جهة الزوج وقد تكون من جهة المرأة، فالشرع شرع الطلاق وفوض طريق دفع المخالفة والإعادة إلى الموافقة إلى الزوج لاختصاصه بكمال العقل والرأي فينظر في حال نفسه فإن كانت المخالفة من جهته يطلقها طلاقا واحدا رجعيا أو ثلاثا في ثلاثة أطهار ويجرب نفسه في هذه المدة فإن كان يمكنه الصبر عنها ولا يميل قلبه إليها يتركها حتى تنقضي عدتها، وإن كان لا يمكنه الصبر عنها راجعها وإن كانت المخالفة من جهتها تقع الحاجة إلى أن تتوب وتعود إلى الموافقة وذلك لا يحصل بالطلاق الرجعي؛ لأنها إذا علمت أن النكاح بينهما قائم لا تتوب فيحتاج إلى الإبانة التي بها يزول الحل والملك لتذوق مرارة الفراق فتعود إلى الموافقة عسى وإذا كانت المصلحة في الطلاق بهذين الطريقين مست الحاجة إلى شرع الإبانة عاجلا وآجلا تحقيقا لمصالح النكاح بالقدر الممكن،الخ(ج: 3 فصل فی الفاظ الکنایۃ فی الطلاق ص: 112 ناشر: المطبعۃ الجمالیۃ بمصر)