السلام علیکم مفتی صاحب
میں ایک بیوی ہوں میری عمر 32 سال ہے اور میرے شوہر کی عمر 42 سال ہے۔ ہماری شادی کو 13 سال ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ اللہ تعالی نے ہمیں تین صحت مند اور خوبصورت بچیوں سے نوازا۔ جن کی عمریں بالترتیب 12 سال 10 سال اور 6 سال ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ شادی کے آغاز سے ہی جب ہم ہمبستری کرتے تو مجھے کچھ خاص اطمینان نہ ہوتا۔ لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آتی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ شاید اسی لیے میں ہمبستری میں کم دلچسپی لینے لگی اور شوہر کے اصرار کے باوجود ہمبستری کرنے میں زیادہ دن وقفہ ڈالنے لگی۔میرا شوہر شروع سے ہی مجھے کہتا کہ مجھے ہر دو دن بعد جنسی تعلق قائم کرنے دو لیکن میں اسے روکتی رہی اس کی شدید خواہش کے باوجود بار بار میں اسے انکار کرتی رہی۔ شادی کے ایک سال بعد ہماری بڑی بچی پیدا ہوئی، اس کے دو سال بعد دوسری بچی پیدا ہوئی۔ پھر میں نے شوہر کو وقفے کا کہا اور پھر ہماری تیسری بچی پانچ سال کے وقفے سے پیدا ہوئی۔
چونکہ ہمیں لڑکے کی خواہش تھی لیکن باوجود دم درود کے میرا شوہر لڑکا پیدا نہ کر سکا۔ اور ہمبستری میں بھی مجھے مطمئن نہ کر سکا۔ کیونکہ اس کے نفس کے چھوٹے سائز (تقریباً صرف 4 انچ) کی وجہ سے اور بہت جلدی ڈسچارج ہو جانے کی وجہ سے میری ضرورت پوری نہیں ہوتی تھی۔ جب کبھی بھی میرے شوہر نے ہمبستری کی تو میں ویسے کی ویسے ہی نامکمل رہی یعنی نہ میری ضرورت پوری ہوئی اج تک اور نہ ہی میں ڈسچارج ہوئی کبھی۔
اس صورتحال میں میرے دل میں بہت برے برے خیالات آتے ہیں کہ میں کسی غیر مرد سے اپنی ضرورت پوری کروں یا کسی دیوار کو سر مار کے مر جاؤں یا مار دوں۔ اس لیے پچھلے ایک سال سے میں نے شوہر کو ہمبستری کرنے سے منع کر دیا ہے ۔ کبھی ہو جائے جو 40 ، 50 دنوں بعد یا اس سے بھی زیادہ دنوں بعد کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ بھی نہیں۔ اور اب میں نے شوہر سے فوری طلاق کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔لیکن میرا شوہر بار بار ایک ہی بات کرتا ہے کہ مسئلہ چھوٹے سائز کا نہیں مسئلہ صرف جلدی فارغ ہونے کا ہے۔ مجھے موقع دو میں علاج کرواتا ہوں جلدی ڈسچارج ہو جانے والا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن میں اب اس سے تنگ ا چکی ہوں۔
ساری صورتحال بیان کرنے کے بعد میرا سوال ہے کہ کیا میں کسی غیر مرد سے اپنی ضرورت پوری کر سکتی ہوں کیا اسلام مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے؟یا کیا میں اس سے طلاق لے لوں؟ کیونکہ اللہ نے مجھے بھی زندگی دی ہے مجھے اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے میں اسی طرح گھٹ گھٹ کر مر جاؤں کیا؟ دین اسلام اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے میری رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللّٰہ خیرا
صورت مسؤلہ میں شوہر کی مذکور بیماری کی بناءپر بیوی کا کسی غیر مرد سے اپنی ضرورت پوری کرنا ہرگز جائز نہیں ، بلکہ یہ زنا ہے، جو کہ گناہ کبیرہ اور حرام عمل ہے ،جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،اور اسلام ہرگز اس عمل کی اجازت نہیں دیتا ، البتہ اگر واقعۃً سائلہ کو دوران ہمبستری تشفی نہ ہوتی ہو تو ایسی صورت میں فی الفور طلاق کا مطالبہ کرنے کے بجائے شوہر کو ایک مرتبہ علاج کا موقع دے ،لیکن اگر شوہر کا علاج ممکن نہ ہونے کی وجہ سے سائلہ مایوس ہوجائے اور گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں پھر سائلہ طلاق کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
قال تعالی : وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا، آیۃ: 32،پارہ 15 ۔)
و فی صحیح البخاری : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم، حين ينتهبها وهو مؤمن،)رقم الحدیث: 2343۔)
و فی ردالمحتار : (فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة.ج: 3،ص: 495۔)