السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!مفتی صاحب !گذشتہ آٹھ نو برس قبل میری بیوی کی بہن نے ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی لڑکے سے فرار ہوکر شادی کرلی تھی،تو اس وقت میں نے غصے میں آکراپنی بیوی سے کہا کہ اگرتم اپنی اس بہن سے ملی ،تو تمہیں تین طلاق۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ میری اس سالی کو طلاق ہو چکی ہے، اور وہ اب اپنےماں باپ کے گھر میں رہ رہی ہے، جبکہ اُس وقت سے میری بیوی اپنے ماں باپ کے گھر بھی نہیں جارہی ہے،اب سوال یہ ہے کہ میری بیوی کی بہن کو طلاق ہوچکی ہے،اور وہ اپنے ماں باپ کے گھر آچکی ہے ، کیا اب میری بیوی اس سے اس گھر میں مل سکتی ہے؟کیا اس صورت میں جو میں نے طلاق کی شرط لگائی تھی ،وہ نافذ ہوگی یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
واضح ہوکہ طلاق کو جب کسی شرط کےساتھ معلق کردیا جائے،تواس شرط کے پائے جانے کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل نےجب اپنی بیو ی کوغصے کی حالت میں مذکور الفاظ " کہ اگرتم اپنی اس بہن سے ملی ،تو تمہیں تین طلاق" کہہ دئیے ،تو اس سے تعلیقِ طلاق منعقد ہوچکی ہے، چنانچہ سائل کی بیوی جب بھی اپنی اس بہن سے ملے گی(اگرچہ اس کی بہن کو طلاق ہو گئی ہو ، یا وہ والدین کے گھر میں ہی کیوں نہ رہ رہی ہو،تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد نہ تو رجوع ہو سکے گا ، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کےدوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکے گا، جب کہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
لہذا سائل کو چائیے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کی بہن سے ملاقات کرنے سے روکے، اور اگر سائل یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی اپنی بہن کے ساتھ ملاقات بھی کرے ، اور اس کی بیوی پرمعلق طلاق بھی واقع نہ ہو تو اسکے لئے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن د یدے ،اور عدت کے اختتام تک سائل بیوی کو اپنی اس بہن سے ہرگز ملاقات کرنے نہ دے ، جب عدت گزر جائے، تو سائل کی بیوی اپنی بہن سے ملاقات کرلے ،اس وقت چونکہ اسکی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہو گی ، تو بہن سےملاقات کرنے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی، اور شرط بھی پوری ہو جائے گی، جس کے بعد سائل گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے ، پھر اس کے بعد دونوں بہنوں کی ملاقات سے سائل کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ،البتہ اس صورت میں سائل کے پاس فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہوگا،لہذاآئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
کمافي الدر المختار:(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها اھ (3/355)۔
وفی الھندیة: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ (1/420)-
وفیھاایضاً:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ:(1/473)-