اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق کا نوٹس کا اسٹامپ لکھ کر گواہوں اور اپنے دستخط کر دے مگر بیوی یا اس کے گھر والوں یا رشتہ داروں کو اس کی اطلاع نا دے تو کیا اس صورت میں خاوند کی طرف سے ایک طلاق ہو جاتی ہے؟
بیوی کے علم میں نہ لانے کی شرعی اور پاکستانی قانون کے مطابق کیا حثیت ہے؟
سوال میں ذکر کردہ نوعیت سے متعلق پاکستانی قانون کا تو ہمیں علم نہیں ،اس لئے اس کی قانونی حیثیت تو قا نونی ماہرین سے ہی معلوم کی جاسکتی ہے، البتہ اگر کو ئی شخص ایک طلاق کا نوٹس لکھ دے اگر چہ بیوی کو اس کا علم نہ ہو ا ہو ، تب بھی اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق شرعا واقع ہو جا تی ہے ،جس کے حکم کی تفصیل طلاق کے الفاظ کی وضاحت کے بعد معلوم کی جاسکتی ہے ۔
وفي درالمختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة،اھ. ( ج:٣ مطلب فی طلاق الکتابۃص: ٢٤٦ ناشر سعيد)
وفي نہر الفائق شرح کنز الدقائق :لوكتب الطلاق أو العتاق مستبينا لكن لا على وجه الرسالة والخطاب ينوي فيه الكلام فإن كان كقوله أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو أنت حرة أو إذا وصل إليك/ كتابي فأنت كذا فإنه يقع منجزا عقب الكتابة إذا لم يقله ولا يصدق في عدم النية والله الموفق.اھ(ج: 2 مطلب في الطلاق قبل الدخول ص:361 ناشر دار کتب العلمیہ)