السلام علیکم مفتی صاحب : مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے، میں اپنی بیوی سے بات کر رہا تھا ، باتوں باتوں میں، میں نے اپنی بیوی سے یہ کہا "فرض کرو میں تمہیں طلاق دیتا "،اتنا بولا۔ جبکہ میں ان کو یہ کہنا چاہتا تھا کہ" فرض کرو میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں" تو اس دوران میرے منہ سے یہ لفظ نکل گیا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا"کیا اس بات سے طلاق ہو جاتی ہے؟ جبکہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ان کو ایسا کچھ کہنے کا، میں صرف ایک اپنی بات کر رہا تھا ، نہ کوئی غصے کا ماحول تھا اور نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑا ، صرف ایک بات رکھ رہا تھا، اور میرے منہ سے یہ لفظ ادا ہو گیا، بعد میں میں نے اس چیز کو سوچا تو میں بہت پریشان ہو گیا، لیکن میں نے یہ بات کرنے سے پہلے کہا فرض کرو ، مطلب میں ان کو ایک مثال دے رہا تھااور میرے منہ سے ایسے لفظ نکل گئے ، اس بارے میں آپ مجھے وضاحت فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعةً حقیقت پر مبنی ہو تو ان کے منہ سے نکلے ہوئے مذکور جملے "فرض کرو میں تمہیں طلاق دیتا"سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے اس لئے اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کما في الدر المختار:كتاب الطلاق: هو رفع قيدالنكاح في الحال أو الماٰل بلفظ مخصوص هو ما اشتمل على الطلاق..
وفي ردالمحتار تحت قوله(رفع قيدالنكاح): فقد ثبت أن حقيقيةالطلاق الشرعى هو الحدث الذي هو مدلول المصدر لانفس الفظ،لكن لما كان أمراً معنويا لايتحقق إلابلفظه المستعمل فيه.. هو في الشارع عبارة عن المعنى الموضوع لحل عقدةالنكاح..الخ_(ج:3،ص:226،مط: سعيد)