کیا کسی بچے کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی کھلونے کی مورت (تصویر یا مجسمہ) کو محض سجاوٹ کے طور پر شیلف پر رکھ دے، حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں اور اس کے بغیر بھی وہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ اگر یہ جائز ہے، تو پھر اس حدیث کی کیا توجیہ کی جائے گی کہ:
“فرشتہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں تصویر ہو، سوائے اس تصویر کے جو کپڑے پر سلی ہوئی ہو؟”
واضح ہو کہ بچوں کے لیئے کھلونے جو کسی جاندار کی تصویر پر مشتمل ہوں ، ایسے کھلونوں کا سجاوٹ کی غرض سے شیلف میں رکھنا جائز نہیں ، چنانچہ بہت سی احادیث مبارکہ اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے ، اس لئے اس عمل سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی صحیح البخاری : عن ابن عباس ، عن أبي طلحة ، رضي الله عنهم قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتاً فيه كلب ولا تصاوير ( باب التصاویر ، ج : 4 ، ص : 6259 ، ط : بشری )
و فیہ ایضا: عن عمران بن حطان، أن عائشة، رضي الله عنها حدثته: أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يترك في بيته شيئاً فيه تصاليب إلا نقضه اھ ( باب التصاویر ، ج : 4 ، ص : 6259 ، ط : بشری )