السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ زید کی بیوی اس کی اجازت سے اپنی نانی کے گھر جاتی ہے ایک دن کا کہہ کر، پھر وہ دوسرا دن بھی وہاں رہتی ہے اور جب گھرآ تی ہے واپس، تو زید چھ گھنٹے کے لیے تالا نہیں کھولتا ۔ چونکہ زید کے پاس چابی ہوتی ہے گھر کی، اور پھر یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ" تم میرے گھر سے دفع ہو جاؤ، بچوں کو ساتھ لے جانا ہے تو لے جاؤ ، میرے پاس رکھنا ہے تو رکھو" اور پھر زید اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو گھر سے باہر نکال دیتا ہے کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں زید نے اگر طلاق اور علیحدگی کی نیت سے مذکور الفاظ "تم میرے گھر سے دفع ہو جاؤ" بولے ہوں تو اس صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے، بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے البتہ مذکور الفاظ اگر طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہےاور بدستور میاں بیوی ہیں ، تاہم آئندہ کے لئے اس طرح کے جملوں سے احتراز چاہئےـ ۔
كما في الدر المختار: فالحالات ثلاث: رضا، وغضب،ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ،ولا (فنحو أخرجي واذهبي وقومي يحتمل ردا ..وفي الغضب توقف الأولان إن نوى وقع وإلا لا وفي مذاكرة الطلاق يتوقف الاول فقط ،
وفي رد المحتار تحت قوله (يتوقف الأول فقط): أي ما يصلح للرد والجواب لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد كما تصلح للطلاق.. والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة..الخ(ج:3،ص:298،301،مط: سعيد)