میرے شوہر نے شدید غصے اور ہائی بلڈ پریشر کی حالت میں مجھے طلاق دی، ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے، یہ بھی واضح نہیں کہ انہوں نے ایک طلاق دی یا دو، کیونکہ ماحول بہت زیادہ لڑائی جھگڑے اور شدید تناؤ والا تھا،میرا یہ یقین ہے کہ میرے شوہر نے یہ طلاق جان بوجھ کر اور اپنی مرضی سے نہیں دی، بلکہ یہ ایک بے قابو اور غیر ارادی حالت میں واقع ہوئی، میں اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنا چاہتی ہوں، اور وہ بھی اسی بات پر یقین رکھتے ہیں،براہِ کرم ہمیں اس معاملے میں شرعی رہنمائی فراہم کریں، اور اگر ممکن ہو تو ہمارے ساتھ رہنے کے جواز کے بارے میں فتویٰ یا اجازت عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ عام غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے غصے کی حالت میں جتنی طلاقیں دی ہیں ،وہ واقع ہوچکی ہیں ، جس کے لئے دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ کو حاضر وناضر جان کر اخروی عذاب کا استحضار کرتے ہوئے فیصلہ کریں کہ کتنی بار طلاق کے الفاظ صادر ہوئے ہیں جو صورت حال بھی یقینی طور پر یا غالب گمان کے مطابق سامنے آئے اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہے ، چنانچہ اگر ایک یا دو طلاقوں کی صورت بنتی ہے تو دوران عدت ( تین ماہواریوں کے مکمل ہونے سے قبل )سائلہ کے شوہر اس سے رجوع کرسکتا ہے، البتہ تکمیل عدت کے بعد دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے کے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہو گا ۔
کما فی الدر المختار : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش،(ج :3 ،ص:244)
وفیہ ایضاً : ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.(ج:3،ص:283، مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ : وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها "والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي" وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة(ج:2،ص:394)