طلاق کا مسئلہ: ایک لڑکی حنفی اور اس کا شوہر شیعہ مسلک سے ہے۔ شوہر نے ایک بار واضح الفاظ میں طلاق دی اور دوسری بار ایک موقع پر کہا کہ میں تمیں فارغ کرتا ہوں۔ اب لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ طلاق ہوگئی ہے اب یہ دونوں میاں بیوی نہیں رہے۔ جبکہ لڑکی کے شوہر کا کہنا ہے کہ ہمارے مسلک کے حساب سے طلاق نہیں ہوئی ہے۔ اس مسئلہ پر آپکی کیا رائے ہے؟
واضح ہو کہ شیعوں کی مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد اور نظریات بھی مختلف ہیں،اس لئے شیعوں کےساتھ مناکحت اختیار کرنے میں تفصیل ہے،وہ یہ ہےکہ جس شیعہ کے عقائد اور نظریات یہ ہوں مثلا: حضرت علی کو خدامانتا ہو،یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو،یا حضرت جبرئیل کے وحی لانےمیں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو،یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو ،یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کامنکر ہو،یا اس قسم کاکوئی دوسرا کوئی عقیدہ جوقرآن کریم کے صریح امر کے خلاف کفریہ عقیدہ ہوتو ایسے عقائدکے حامل شیعہ مرد سےسنی العقیدہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ، البتہ اگر مذکور لڑکی کا شوہر ان کفریہ عقائد کا حامل نہ ہو، تو اگر ان دونوں کے مابین کیاگیانکاح درست منعقد ہوچکا تھا، لیکن اس نکاح کے بعد اس کے شوہر نے اسے واضح الفاظ جیسے "میں آپ کو طلاق دیتاہوں " کے ذریعے ایک طلاق دیدی ہو، اور دوران عدت رجوع کر لیاہو، یا رجوع کے بغیر ہی دوران عدت مذاکرہ طلاق یا لڑائی جھگڑے کے نتیجہ میں "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں ، "کے الفاظ کہہ دیے ہوں ، تو اس سے اس پر دوسری طلاق بائن بھی واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے ، جس کے بعد عورت کے لئے بغیر تجدید نکاح کے اس کے ساتھ رہنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (أو) الكافر بسب (الشيخين أو) بسب (أحدهما) في البحر عن الجوهرة معزيا للشهيد من سب الشيخين أو طعن فيهما كفر ولا تقبل توبته، وبه أخذ الدبوسي وأبو الليث، وهو المختار للفتوى انتهى اھ
وفی الشامیة: تحت قوله:(لکن فی النھر) نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (ج:4،ص:237، مطلب التونة اليأس دون الايمان مطبع: ایچ ایم سعید)
وفی الھدایة: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعيلأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " وكذا إذا نوى الإبانة " لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه (باب ایقاع الطلاق ،ج:1،ص " 225، ناشر بیروت )