کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے آج سے تقریباً بارہ سال قبل اپنی بیوی کو یہ کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ جس کے بعد دورانِ عدّت میں نے رجوع کر لیا تھا، پھر آٹھ سے دس ماہ قبل گھریلو ناچاقی کی وجہ سے دوبارہ اپنی بیوی کو دوسری بار یہی الفاظ کہے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“اور اس کے بعد دورانِ عدّت دوبارہ رجوع کر لیا تھا، پھر تقریباً آج سے بیس دن قبل تیسری بار بھی یہی الفاظ کہے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ میری کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
سائل نے جب دوبارطلاق دیکر دوران عدت رجوع کرلیاتھا تووہ رجوع درست ہوگیا،اس کے بعدان دونوں کامیاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے ساتھ رہنابھی جائزتھااورآئندہ کے لیے سائل کے پاس فقط ایک طلاق کااختیارباقی تھا،چنانچہ بیس دن قبل جب اس نے دوبارہ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پرتیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
و فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔