السلام علیکم
میرا سوال طلاق کے بارے میں ہے، میں ایک دن گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اکیلے میں بیوی کو کسی دوسرے دن پر طلاق دینے کے بارے میں سوچ رہا تھا ، ساتھ میں تین مرتبہ طلاق کا لفظ میری زبان سے بھی خاموشی کے ساتھ بغیر آواز کے ادا ہوگیا، حالانکہ نہ میرا طلاق دینے کا ارادہ تھا اور نہ یہ لفظ اس وقت ادا کرنے کا ارادہ تھا، بس غیر ارادی طور پر زبان پر جاری ہوا، آواز بھی اتنی کہ خود بھی مشکل سے سنےاب مجھے پتہ چلا ہے کہ اکیلے میں تین مرتبہ طلاق کا لفظ کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔اب ایک طرف اس وقت میں طلاق دینے کی نیت سے یہ لفظ ادا نہیں کر رہا تھا، بلکہ اپنی سوچ میں جو بات چل رہی تھی کسی دوسرے موقع پر طلاق دینے کے بارے میں، اسکے ساتھ منہ سے بھی لفظ نکل جاتا تھا۔ دوسرا میں اس وقت اکیلا تھا اور مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اکیلے میں بھی طلاق ہو جاتی ہے ، میرا ابھی کوئی طلاق کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ بڑے سخت مسائل ہیں اور تین بار کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے اور سخت گناہ کا کام ہے اکھٹے تین طلاق دینا، اگر دینا بھی پڑھ جائے تو ایک دینی ہوتی ہے، اب غیر ارادی طور پر بے ساختہ منہ پر تین مرتبہ صرف زبان پر خاموشی کے ساتھ طلاق کا لفظ جاری ہونے سے کیا طلاق واقع ہو جائیگی ؟جزاک اللہ
سائل نے اگر واقعةً قصد کر کے اکیلے میں طلاق دینے کی نیت سے بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے الفاظ طلاق ادا نہ کیے ہوں ، بلکہ سوچوں میں گم ہو کر بیوی کی طرف نسبت اور قصد کیے بغیر زبان بے اختیار چلنے لگی ہو اس پر سائل حلف بھی اٹھاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ سائل پر لازم ہے کہ اس طرح خیالات سے پرہیز کرے اور ایسے موقع پر فورا اپنے خیالات بھٹکانے کے لیے کسی عملی کام وغیرہ میں لگ جایا کرے تاکہ اس قسم کے وساوس سے حفاظت ہو سکے۔
كما في رد المحتار: أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لابد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله.. فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته ..الخ.(ج:3،ص:250،مط: سعيد كراچی)