امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک حساس ازدواجی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لکھ رہی ہوں اور خلوصِ دل سے آپ سے مدد کی درخواست گزار ہوں۔ ایک جھگڑے کے دوران، میرے شوہر اور میں دونوں بہت غصے میں تھے۔ غصے کی حالت میں، میں نے بار بار ان سے کہا کہ " مجھے چھوڑ دو "۔ اس کے جواب میں انہوں نے ایسے الفاظ کہے جو " میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے" جیسے تھے۔ تاہم انہوں نے کسی بھی وقت لفظ " طلاق" استعمال نہیں کیا۔ان کی طرف سے طلاق دینے کی کوئی واضح نیت بھی نہیں تھی۔ یہ بات صرف غصے اور جذباتی دباؤ کی حالت میں کہی گئی تھی۔ بعد میں ہم دونوں نے اس صورتحال پر افسوس کیا اور ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کریں گے۔
میرے سوالات یہ ہیں:
کیا اس قسم کا بیان شرعاً معتبر طلاق شمار ہوتا ہے؟
چونکہ لفظ " طلاق" ادا نہیں کیا گیا اور نیت بھی موجود نہیں تھی، تو کیا شریعت کے مطابق ہماری شادی اب بھی برقرار اور درست ہے؟میں بہت پریشان ہوں اور یہ یقین کرنا چاہتی ہوں کہ: ہم حلال اور درست اسلامی طریقے سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ آپ کی راہ نمائی میرے لیے بہت باعثِ شکر ہوگی۔ جزاک اللہ خیراً!
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے سائلہ کے مطالبہ کے جواب میں " میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے" کے الفاظ ایک ہی بار کہے ہو ں، تو اس سے سائلہ پرایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے ،اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت نہ کی ہو ،جس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، چنانچہ اس طلاق کے بعد اگر وہ دونوں میاں بیوی کی طرح ساتھ ملے ہوں، تو اس سے ان کے درمیان رجوع بھی ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، اور ان دونوں کا ساتھ رہنا بھی درست ہے، البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ،اس لیے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی رد المحتار: تحت قوله حرام فاذا قال رها كردم اي سرحتك يقع به الرجعي مع انه اصله كناية ايضا وما ذلك الا لانه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق من اي لغة كانت اھ (باب الكنايات ج: 3 ص: 299 ط سعيد)
وفی الهندية: الرجعة ابقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين سني وبدعي فالسني ان يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فاذا راجعها بالقول نحو ان يقول لها راجعتك او راجعت امراتي ولم يشهد على ذلك او اشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وان راجعها بالفعل مثل ان يطأها او يقبلها بشهوة او ينظر الى فرجها بشهوة فانه يصير مراجعا عندنا اھ (الباب السادس في الرجعة ج: 1 ص: 468 ط: ماجدية)
وفی الھندیۃ : الرجعۃ ابقاء النکاح علی ما کان ما دامت فی العدۃ کذافی التبیین وھی علی ضربین سنی و بدعی فالسنی ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقول لھا راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد ولم یعلمھا بذلک فھو بدعی مخالف للسنۃ والرجعۃ صحیحۃ وان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا (الباب السادس فی الرجعۃ ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : ماجدیہ