کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی کا نکاح آج سے تقریباً 15 سال قبل ہو گیا تھا، اس نکاح سے چھ بچے بھی ہیں، ایک دن صبح کے وقت لڑائی جھگڑے کے دوران میرے داماد نے میرے سامنے میری بیٹی کو یہ الفاظ کہے، جب میں نے پوچھا کہ یہ کیوں؟ تو کہنے لگا،(واورہ دا پہ ماطلاقہ دہ، طلاقہ دہ، طلاقہ دہ) ”سنو! یہ مجھ پر طلاق ہے، طلاق ہے ،طلاق ہے “
اس موقع پراس کی والدہ بھی موجود تھی ،ان کا بھی یہی بیان ہے کہ مذکور ہ الفاظ تین مرتبہ بولے ہیں، جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں ،لیکن کتنی مرتبہ؟مجھے صحیح سے یاد نہیں ہے، گھر کے درمیان دیوار ہے، دوسری طرف داماد کے بھائی کا یہی کہنا ہے کہ میں اپنے گھر میں تھا اور میں نے آواز سنی کہ اس نے تین مرتبہ طلاق کے یہی مذکور بالا الفاظ بولے ہیں۔
شوہر چونکہ یہاں موجود نہیں، ان سے فون پر رابطہ ہوا ،ان کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ صبح لڑائی کے دوران میں نے بیوی کو چونکہ مارا تو اس نے میری ناک پر ماراتو میں نے بھی مارا ،اس دوران میرے آئے تو اس نے مجھے کہا کہ تم بیوی کے لیے بدلہ کیوں نہیں چھوڑتے؟تو میں نے کہا کہ اگر میں نے بدلہ چھوڑا تو یہ مجھ پر طلاق ہے ،طلاق ہے طلاق ہے (کہ مادی تہ بدلہ پریخودہ نوداپہ ما طلاقہ دہ، طلاقہ دہ، طلاقہ دہ)۔
اور اس کے بعد سے میں نے ان کیلئے کوئی بھی بدلہ نہیں چھوڑا ہے ،اگر بیوی نے گالی دی ہے تو میں نے بھی گالی دی ہے ،پھر اس نے مارا ہے تو میں نے بھی مارا ہے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب آئندہ کے لیے کیا حکم ہے ؟
نوٹ :موقع کے گواہوں کا بیان بھی حلفیہ ہے۔
سوال میں ذکرکردہ وضاحت کے مطابق لڑکی کا والد، لڑکے کی والدہ اور اس کا بھائی طلاقِ مُنَجَّز کے دینےپر حلفیہ بیان دے رہے ہیں، جبکہ شوہر مُعلَّق طلاق دینے کا دعوی اور منجز طلاق دینے کا انکار کر رہا ہے۔
چونکہ والد کی گواہی اولاد کے حق میں ہونے کی وجہ سے شرعاً معتبر نہیں، اس لیے صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے والد کی گواہی کا شرعاً اعتبار نہیں، جبکہ لڑکی کی ساس اور دیور/ جیٹھ کی گواہی اگرچہ معتبر ہو، لیکن گواہوں کی تعداد مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان گواہان کا بھی اعتبارنہیں۔
لہذا عورت کے پاس شرعی گواہان نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی بات مانی جائے گی، البتہ شوہر کی بات ماننے کی صورت میں بھی شروع کی پہلی طلاق معلق شمار ہوگی، جبکہ بقیہ دو طلاقیں منجز شمار ہو کر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہیں اور شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے معلق پہلی طلاق واقع نہیں ہوئی،چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت رجوع کر لے تو اس کا نکاح برقرار رہے گا ۔
البتہ اگر عورت کو اپنے والد، ساس اور دیور /جیٹھ کی بات پر اعتماد ہو تو ”المر أۃ کالقاضی “کے اصل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کو چاہئیے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھےاور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ،بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اس سے خلاصی کی ہر ممکن کوشش کر لے۔
کما فی الھندیۃ: ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين الخ(الباب الثانی فی بیان تحمل الشھادۃ،ج:3،ص:451،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً:لا تجوز شهادة الوالدين لولدهما وولد ولدهما، وإن سفلوا، ولا شهادة الولد لوالديه وأجداده وجداته من قبلهما، وإن علوا، ولا شهادة الزوج لامرأته، وإن كانت مملوكة أيضا ولا شهادة المرأة لزوجها، وإن كان مملوكا أيضا، كذا في الحاوي الخ(الفصل الثالث فيمن لا تقبل شهادته للتهمة،ج3،ص469،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: فإن ذكره بغير حرف العطف إن كان الشرط مقدما فقال إن دخلت الدار فأنت طالق طالق طالق(الی قولہ) وإن كانت مدخولة فالأول معلق بالشرط والثاني والثالث يقعان في الحال الخ(الفصل الخامس فی الکنایات،ج:1،ص:374،ط:ماجدیۃ)۔
وفی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ (باب الطلاق الصریح، ج:3، ص:257،ط: ماجدیۃ)۔