کیا لڑکی عدالت سے طلاق لے سکتی ہے ؟ عدالت سے لیئے گئے طلاق کے بعد شوہر اپنی بیوی سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے ؟
سائل کی بیوی کا عدالت سے طلاق لینے سے مراد اگر اسکا خلع لینا ہو ، تو خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے لہذا اگر یہ خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس خلع سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر چونکہ میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے اس لیئے دوبارہ ساتھ رہنے کے لیئے انھیں تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا اور اس تجدید نکاح کے بعد ان کا ساتھ رہنا بھی درست ہوگا البتہ اگر شوہر عدالتی خلع دینے سے انکار کرے اسکے باوجود بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو، جس پر شوہر یا شوہر کی جانب سے مقرر کردہ کسی وکیل نے دستخط بھی نہ کئے ہوں اور نہ زبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں اسبابِ فسخ نکاح کے موجود نہ ہوتے ہوئے اس یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ حسبِ سابق برقرار ہے۔لہذا اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے کسی قسم کے نکاح وغیرہ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ،البتہ اگر عدالتی طلاق سے مراد کچھ اور ہو تو اس کی پوری تفصیل اور طلاق نامہ کی کاپی ارسال کرکے حکم شرعی معلوم کیا جاسکتاہے۔
کما فی التاتارخانیۃ : وفی فتاوی التاترخانیۃ : فی المخلص والایضاح:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ ( ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا )
کمافی الھدایة: "وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج : 2 ، ص : 92 ، ط : بشری )
و فی الھندیۃ : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها ( كتاب الطلاق ، الباب السادس في الرجعة ، فصل: في ما تحل به المطلقة ، ج : 1 ص : 472 ، ط : رشيدية )