محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! میں، عمر فاروق ولدمسعود عزیز، آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں، میں نے اپنی بیوی کو گھریلو جھگڑے کی وجہ سے صرف ایک طلاق دی تھی جس میں میں نے یہ الفاظ کہے کہ "میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں "،اس کے بعد ہماری آپس میں صلح ہو گئی اور میں نے رجوع کر لیا اور ہم میاں بیوی کے حقوق ادا کرنے لگے، پھر کچھ عرصہ بعد میں روزگار کے لیے سعودی عرب آگیا، پھر کچھ عرصہ بعد ایک لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میری بیوی نے عدالت میں خلع کاکیس دائر کر دیا ،عدالت میں کیس دائر ہونے کے دوران میں نے اپنے پیرومرشد صاحب کو واٹس ایپ پر وائس میسج کیے کہ سرکارمیرےلئےدعا کریں کہ میرا گھر بچ جائے ،اور میں نے اپنے پیر و مرشد صاحب کو یہ وائس میسج کیا کہ سرکار جب میں پاکستان میں تھا تومیں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں۔ یہ میں نے لوگوں کے کہنے پر کہا ،کیونکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوطلاقیں ہوئی ہیں، حالانکہ اصل حقیقت صرف ایک طلاق ہے ،لیکن کچھ لوگ مجھے بار بار یہ بات کر رہے ہیں کہ تمہاری دوبارلڑائی ہوئی تھی، تم نے دوسری بار بھی طلاق دی تھی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسری بار لڑائی میں طلاق نہیں دی گئی اور نہ ہی طلاق کا کوئی ذکر یا لفظ استعمال ہوا ،بس یہ ا لفاظ کسی کو کال کر کے بولے تھے کہ تم آجاؤ ،میں نے اس کو پہلے ایک طلاق دی ہوئی ہے، آج باقی بھی دوں گا ،لیکن دی نہیں تھی، میری بیوی بھی حلف دے رہی ہے کہ دوسری لڑائی میں طلاق نہیں دی، لیکن اس شخص نے ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے کہ تم نے مجھے یہ کہا ہے کہ میں نے اسے طلاق دیدی ہے، حالانکہ میں نے اسے یہ کہا تھا کہ ایک دی ہوئی ہے، باقی آج دونگا، لیکن دی نہیں ،اس وجہ سے میں نے اپنے پیر صاحب کو کہہ دیا صرف کچھ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں۔ براہ کرم بتائیں کہ شریعت کے مطابق طلاق کتنی ہے ؟اور لوگوں کو کیسے صحیح اور شرعی طریقے سے آگاہ کیا جائے ،تاکہ غلط فہمی ختم ہو اور عزت و بیوی کے حقوق محفوظ رہیں ؟ ضروری نکتہ: ایک شخص کو دوسری بار لڑائی ہونے پر کال کی گئی اور یہ کہا کہ میں نے اس کو ایک طلاق دی ہوئی ہے ،باقی آج دے کر جاؤں گا ،اوراس شخص کا کہنا ہے کہ تم نے مجھے یہ کہا کہ ایک طلاق دے دی ہے، باقی تم آؤ گے تو دیکر جاؤں گا اور اس بندے کی وجہ سے مرشد پاک سے یہ کہنا پڑا کہ دو طلاق دی ہیں ،لیکن حقیقت میں ایک طلاق دی ہے، پھر عدالت سے میری غیر موجودگی میں میری بیوی کوخلع کی ڈگری جاری ہو گئی ہے، لیکن اب ہم دونوں میاں بیوی ایک ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اب ہماری میاں بیوی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟کیا ہم دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں؟ جزاک اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق پہلی مرتبہ صرف ایک صریح طلاق دی گئی تھی،جس کے بعد عدت کے اندر رجوع کرلیا گیااور میاں بیوی دوبارہ ازدواجی زندگی بسر کرنے لگے۔بعد میں ہونےوالے جھگڑے میں اگر حقیقتاًنہ طلاق کے الفاظ اداء کیے گئےاورنہ طلاق دینے کی نیت سے کوئی صریح یا کنائی الفاظ کہے گئے، بلکہ صرف یہ کہا گیا کہ "میں نے ایک طلاق دی ہوئی ہے ،باقی آج دوں گا" اور پھر عملاً کوئی طلاق نہیں دی، اور سائل کی بیوی بھی اس بات پر حلفیہ بیان دےتو ایسی صورت میں محض اس ارادے یا آئندہ طلاق دینے کے اظہار سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ سائل کے بقول اس کی بیوی نے عدالت سے اس کی غیر موجودگی میں خلع کی ڈگری حاصل کی ہے۔اس ڈگری سے سائل اور اس کی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر پڑاہے یا نہیں ، اس معاملہ میں تحقیق ضروری ہے، چنانچہ اس متعلق سائل اور اس کی بیوی دونوں کسی مستند دارالافتاء سے رجوع کریں ،خلع کی عدالتی ڈگری ، مقدمے کی تفصیلات اور تمام قرائن پیش کریں تاکہ مکمل تحقیق کے بعد حتمی شرعی حکم سے آگاہ کیا جاسکے۔جب تک اس خلع کی ڈگری کا حکم شرعی بیان نہیں کردیا جاتااس وقت تک ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے احترازلازم ہے۔
کما فی رد المحتار تحت قولہ(لا إقراره بالطلاق): ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. (ركن الطلاق، ج: 3، ص: 236، مط: سعید کراچی)
وفی البحر الرائق: ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ. وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا،الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 264، مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر للحموي: ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية،وقال الحموي: أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به،الخ(القاعدة السابعة عشرة لا عبرة بالظن البين خطؤه، ج: 1، ص: 461، مط: دار الكتب العلمية)
وفي بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول۔الخ.( فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، مط: سعيد).