سوال یہ عرض ہے کہ: میرے دوست نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، اب وہ اسے دوبارہ گھر لانا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی زبان سے طلاق کا اقرار نہیں کیا، اور جو کاغذات وکیل نے تیار کیے تھے ،وہ اس نے نہ پڑھے تھے، نہ ہی اس کی بیوی نے ان پر دستخط کیے تھے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا تھا، بلکہ صرف اپنی والدہ کے کہنے پر طلاق کے کاغذات تیار کروا کر بیوی کے گھر بھجوا دئیےتھے۔
اس وقت اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا کہ: اگر میں دوبارہ آپ کے گھر واپس آؤں تو کیا آپ مجھے قبول کرلیں گے؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ اگر آپ اپنا رویہ درست کرلیں تو میں آپ کو قبول کرلوں گا۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ طلاق کے کاغذات بیوی کے گھر بھیجے گئے تھے، جن پر بیوی کے کسی ولی نے دستخط کر دئیے تھے اور وہ کاغذات واپس کر دئیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے ہوا تھا کہ: ایک بچہ بیوی اپنے ساتھ لے جائے گی اور تمام سامان اور جہیز بھی وہی لے گی، جبکہ اس نے اپنا حقِ مہر چھوڑ دیا تھا۔اس صورت میں کیا وہ اپنی بیوی کو واپس گھر لا سکتا ہے، یا طلاق واقع ہو چکی سمجھی جائے گی؟
نوٹ: طلاق نامہ میں تین طلاقیں مذکور ہیں۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر الفاظِ طلاق استعمال کرنے سے شرعاً طلاق واقع ہوجا تی ہے، اسی طرح بلا کسی جبر و اکراہ کے طلاق نامہ خود لکھنے یا کسی سے لکھوا نے سے بھی شرعاًطلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگروکیل نے سائل کی ہدایت پرتیارکرکےاس کی اجازت و دستخط کے ساتھ اس کی بیوی کے گھربھیجاہو،خواہ سائل نے اس کوپڑھ کرزبانی طلاق کااقرارنہ بھی کیاہو تب بھی سائل کی بیوی پرطلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اوربیوی کاطلاق نامہ پردستخط نہ کرنایاسائل کاوالدہ کے مجبورکرنے پرطلاق کے کاغذات تیارکرواکربیوی کے گھربھیجناطلاق کے حکم پراثراندازنہ ہوگا،لہذا اب سائل کے لیےرجوع کرکے بیوی کوواپس گھرلانے کی گنجائش نہیں اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کیلئے ضروری ہے )کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو ،تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوج اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے، مکروہ تحریمی ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)۔
وفی صحیح البخاری: وقال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك الخ(باب من قال لامرأته انت علیّ حرام،ج3،ص2393،ط:بشری)۔
وفی الشامیۃ:الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة الخ (کتاب الطلاق،ج3،ص 246،ط:سعید)۔
وفی الھندیة: إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ( فصل فيما تحل به المطلقة، ج1،ص 473،ط: ماجدیة)۔