آج صبح دفتر جاتے وقت میری اور بیوی کی لڑائی ہو گئی بیوی نے کہا فلاں اپنے شوہر کے ہاتھ کا ناشتہ کر کے آتی ہے، فلاں کا شوہر یہ کرتا ہے فلاں ، فلاں ،فلاں میں نے کہا ان سے پوچھو ان کے شوہروں نے دوسری شادی کرنی ہے ،تم ان سے دوسری شادی کر لو ،میری طرف سے آزاد ہو تم ۔ اب رہنمائی فرمائٰیں کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی۔ اگر ہو گئی ہے تو کیا ہم اب رجوع کر سکتے ہیں اور رجوع اعلا نیہ ہو گا یا بس میں اور بیوٰی صلح کر لیں، وہ بھی رجوع ہے ؟
واضح ہو کہ "آزاد" کا لفظ ہمارے عرف میں عموما صریح طلاق کے لئے استعمال ہوتا ہے اور صریح الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے مذکور جملہ ایک بار کہنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ وہ دوران عدت یعنی تین حیض ختم ہونے سے پہلے زبانی طور پر کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یا عملا میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے تو اس سے بھی رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہےگا ورنہ دوران عدت رجوع نہ کرنیکی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائےگا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اس کے بعد ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا،بہر دو صورت آئندہ کے لئے اسے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ اس قسم کے الفاظ بولنے سے مکمل احتراز کرے۔
کما فى الهداية:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(ج:٢.ص:٢٥٤)
و فى الدرالمختار:فإِذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجْعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لانه غلب فى عرفِ الفرسِ اسْتعماله فى الطلاق.(ج:٣،ص:٢٩٩)