السلا م علیکم
کچھ سا ل پہلے میر ے شو ہر نےگھر یلو نا چا قی کی وجہ سے مجھ سے انتہا ئی غصے کی حا لت میں اپنا نا م لے کر کہا کہ میں اپنے پو ر ے ہو ش و حواس میں اپنی ما در ی زبا ن ”ای نے طلا ق اےتے وا،ای نے طلا ق اےتے وا،ای نے طلا ق اےتے وا“یہ ما دری زبا ن برا ہوی میں ہے ،اُردو میں اس جملے کا مطلب بنتا ہے کہ ”میں آپ کو طلاق دیتاہوں“ دو دن اس واقعہ کو گزرنے کے بعد مقا می مفتی سے پو چھا گیا تو اُنہو ں نے کہا یہ ایک طلا ق واقع ہو ئی ہے، ہم پھر سے ایک سا تھ رہنے لگے، دو سا ل گذر جا نے کے بعد اپنے گھر والو ں کے سا تھ تعلقا ت کی کشید گی کی وجہ سےمجھ سے کہا کہ میں نے پچھلی دفعہ کہا تھا کہ میں تم کو طلا ق دونگا ،مگر اس با ر کہتا ہوں ”میں نے تم کو طلا ق دیا ،میں نے تم کو طلا ق دیا “دو دفعہ کہنے کے بعد خا موش ہو گیا،کچھ ہفتے گذر جا نے کے بعد جب مقا می مفتی سے پو چھا تو اُنہوں نے کہا صر ف دو طلاقیں واقع ہو ئی ہیں، اب پچھلے سا ل پھر ہما ر ے درمیان نا چا قی کی وجہ سے میر ے شوہر نے مجھے دو دفعہ پھر سے طلا ق کا کہا کہ ”میں نے تم کو طلا ق دیا ،میں نے تم کو طلاق دیا “اس با ر ہم نے کسی مقا می مفتی سے کچھ نہیں پو چھا، میر ے شو ہر نے کہا کہ میں نے استخا رہ کیا ہے کہ ہماری طلا ق نہیں ہو ئی، بس اسی طرح گذر رہی ہے ،دل پر ایک بو جھ اُٹھا ہے، آپ حضر ات سے گذار ش ہے کہ دینِ اسلام کی روشنی میں میرے مسئلےپر روشنی ڈالیں ، اس مسئلے سے نکالنے میں میر ی مد د فر ما ئیں۔
نوٹ :دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کی جانب سےبروہی زبان پرعبوررکھنےاوراس کوسمجھنے والے دومفتیانِ کرام سے رابطہ کرکےمذکورالفاظ ” ای نے طلا ق اےتے وا“کے اردومعنی معلوم کیے گئے، ان حضرات کے بقول اس جملہ کااردومطلب ”میں آپ کوطلاق دونگا“نہیں ،بلکہ ”میں آپ کوطلاق دیتاہوں “بنتاہے۔
واضح ہو کہ طلاق کسی بھی زبان میں دینے سے واقع ہو جاتی ہے، اگر اس کا مفہوم صریح طلاق پر دلالت کرتا ہو۔چنانچہ مقامی” بروہی“ زبان پرعبوررکھنے والے مفتیانِ کرام کی وضاحت کے بعدسائلہ کے شوہرکے پہلےہی موقع پر اپنی مادری زبان بروہی میں تین مرتبہ مذکورالفاظ ”ای نے طلا ق اےتے وا،ای نے طلا ق اےتے وا،ای نے طلا ق اےتے وا“ جس کےاردو معنی (بروہی زبان کے ماہرمفتیانِ کرام کےبقول) ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“بنتے ہوں اوربراہوی زبان میں مذکور جملہ فی الحال وقوعِ طلاق کےمعنی میں استعمال ہوتاہو تواس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، جس کےبعد رجوع نہیں ہو سکتا اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتاہے، چنانچہ اس کے بعدسائلہ کے شوہر کا مقامی کسی مفتی سے ایک طلاق کا فتوی لیکر رجوع کرکے دوسالہ ازدواجی زندگی گزارنااوراس دوسال کے بعد دوبارہ ایک ساتھ دوطلاقیں دیکر سائلہ کےساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا (جوتاحال برقرارہے)بالکل ناجائز اور حرام ہے،جس سے سائلہ اور اس کا شوہر سخت گناہ گار ہوئے ہیں،ان پرلازم ہےکہ بصدقِ دل توبہ استغفار کریں اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیا ر کر یں اور آئندہ میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الھندیۃ: يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا فی الجوهرة النيرة، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج 1، ص 353، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: (و أما البدعی) فنوعان بدعی لمعنى يعود إلى العدد، وبدع لمعنى يعود إلى الوقت (فالذی) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا فی طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين فی طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق وركنه و شرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، الطلاق البدعی، ج 1، ص 349، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان،الخ (کتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج1،ص 355-356،ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية،الخ (كتاب الطلاق،الباب السادس: فی الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج 1، ص 473، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-