جناب مفتی صاحب! میں نے ایک دفعہ اپنے دوست سے کہا کہ: میں نےچاند دیکھ لی ،اس پر میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ اگر تم جھوٹ بولتے ہو تو تم اپنی بیوی کو طلاق کرتے ہو اور میں نے کہا کہ ہاں، حالانکہ میری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے اور چاند دیکھی نہیں تھی۔بعد میں، میں نے نکاح سے پہلے طلاق کے بارے میں پڑھا تو میں بہت پریشان ہوگیا، میں نے سوچا کہ میں دو شادیاں کرونگا اور میں مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ایک مفتی صاحب کو کال کررہا تھا لیکن وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا تھا ،اور میں نے یہ الفاظ کہ دیے سوالیہ انداز میں کہ جب میں دوسری شادی کروں گا کیا اسے طلاق ہوگی ؟ حالانکہ فون ملا ہوا نہیں تھا اور اب یاد نہیں کہ میں نے یہ سوالیہ انداز میں کہتے ہوئے ( کیا) کا لفظ کہا ہے کہ نہیں ،اگر" کیا" کے لفظ کے بجائے "پھر" کا لفظ کہا ہو تو کیا حکم ہے،لیکن یہ یاد ہے کہ میں نے سوالیہ انداز میں کہا ہے،جناب مفتی صاحب مجھے جواب ضرور دے دیجیے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل ان الفاظ کے کہتے وقت غیر شادی شدہ ہو ،تو اب شادی کرتے وقت ان الفاظ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی ،لہٰذا اسے شکوک و شبہات میں پڑنے سے احتراز چاہیئے۔
كما في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: ولو قال لأجنبية: أنت طالق قبل أن أتزوجك فهو لغو، وكذا أنت طالق أمس وقد نكحها اليوم ، لأنه أسنده إلى حالة معهودة منافية الملكية الطلاق فيلغو كما إذا قال: أنت طالق إن أخلق، أو إن تخلقي ولو قال طلقتك وأنا صبي، أو نائم أو مجنون وكان جنونه معهودا فإنه يكون لغوا أيضا، لأنه أضاف إلى حالة معهودة تنافي صحة الإيقاع فكان منكرا لا مقرا به. وإن كان نكحها قبل أمس وقع الآن، لأنه أسند إلى حالة منافية ولا يمكن تصحيحه إخبارا أيضا فكان إنشاء والإنشاء في الماضي إنشاء في الحال اھ (فصل إضافة الطلاق إلى الزمان ج 1 ص 393 ط : دار إحياء التراث العربي، بيروت)
و فی البناية شرح الهداية: ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا، أو يضيفه إلى ملكه، لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا اھ (باب- قال لأجنبية إن تزوجتك فأنت طالق ج: ۵ص414 ط:– دار الکتب العلمیة)
وفی الفتاوى العالمكيرية :إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الخالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي الخ(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج : 1 ص 420 ط : دار الفكر).