السلام علیکم مولانا صاحب!میرے دوست نے اپنی بیوی کو ہمبستری کے لیے بلایا تھا، مگر اس کی بیوی نے انکار کردیا، پھر شوہر چرس کے نشے میں تھا اور اس نے بیوی سے کہا کہ اگر آئندہ ہمبستری کے لیے میں آؤں اور تم نے انکار کیا تو تم میرے اوپر تین شرطوں پر طلاق ہوگی،مولانا صاحب! مجھے بتائیں کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ جزاک اللہ۔
سائل کے دوست نے سوال میں مذکور جملہ” اگر آئندہ ہمبستری کے لیے میں آؤں اور تم نے انکار کیا تو تم میرے اوپر تین شرطوں پر طلاق ہوگی، کہنے کے بعد سائل کے دوست کی بیوی پر مذکور تینوں طلاقیں معلق ہو چکی ہیں ، لہذا اس کے بعد اگر کسی موقع پرسائل کے دوست نے اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلایا اور اس نے انکار کیا ،تو سائل کے دوست کی بیوی پر مذکور معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، اس صورت میں پھر نہ تو رجوع ہو سکے گا ، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کےدوبارہ عقدِ نکاح ہو سکے گا،لہٰذا سائل کے دوست کی بیوی کے لیے طلاق سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جب بھی اس کا شوہر ہمبستری کیلئے بلائے تووہ شوہرہ کو انکار کرنے سے اجتناب برتے ، تاکہ معلق طلاقیں واقع نہ ہو ۔
فی الھندیة : امرأة نامت في فراشها فدعاها زوجها إلى فراشه فأبت فقال لها : إن لم تجيئ إلى فراشي الليلة فأنت طالق فجاء بها الزوج كرها إلى فراشه من غير أن تضع قدمها على الأرض فنامت معه الليلة لا تطلق اھ(430/1)-