السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک خاتون کے شوہر نے اس سے کہا کہ اگر تم نے میری بہنوں سے فون پر بات کی تو تمہیں طلاق ہے۔اور اگر یہ بات کسی کو بتائی(یعنی میں نے تمہیں بہنوں سے بات کرنے پر طلاق کی دھمکی دی ہے) تو بھی تمہیں طلاق ہے، اس بات کی گواہ ان کی بیٹی بھی ہے، اب شوہر اس بات کا انکار کررہا ہےاور کہہ رہا ہے اس بات کا ذکر مت کرو۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال بعد خاتون یہ بات بھول گئی اور اس نے اپنی نند کو فون کرکے بات کرلی تو کیا اس سے ایک طلاق واقع ہوگئی؟ اور پھر اس نے یہ مسئلہ پوچھنے کا کہا ہے تو کیا اس سے دوسری طلاق بھی واقع ہوگئی؟براہِ مہربانی شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کردے تو جب بھی شرط پائی جائے گی، طلاق واقع ہوجائے گی۔لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں جب مذکورہ خاتون کے شوہر نے اسے یہ کہاتھا کہ”اگر تم نے میری بہنوں سے فون پر بات کی تو تمہیں طلاق ہے“۔ پھر جب مذکورہ خاتون نے ایک سال بعد اپنے شوہر کی بہن سےاگرچہ بھول کر فون پر بات کرلی تب بھی شرط پائے جانے کی وجہ سے مذکورہ خاتون پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ،جس کے بعد دورانِ عدت مذکورہ خاتون کے شوہر کو رجوع کا اختیار حاصل ہے۔ چنانچہ شوہر دورانِ عدت زبانی جیسے ” میں رجوع کرتا ہوں “ کہہ کر یا عملاً بیوی سے بوس و کنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے رجوع کرلیتا ہے، تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، اور سائل کو آئندہ کےلئے دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔جبکہ تعلیقِ طلاق کادوسراحصہ ”اوراگریہ بات کسی کوبتائی توبھی تمہیں طلاق ہے “ اگراس عورت نے تعلیقِ طلاق کے نافذہونے تک کسی کویہ بات نہ بتائی ہوتواس تعلیق کے مؤثرہونے کے بعدوہ لغوہوگئی لہذاآئندہ کسی کویہ بات بتانے کی وجہ سے کوئی دوسری طلاق واقع نہ ہوگی ۔
کما فی الھندیۃ: وإذا أضافہ إلی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل أن یقول لأمرأتہ إن دخلت الدار فأنت طالق إلخ (فصل فی تعلیق الطلاق، ج 1، ص 420، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (ولو) الحالف (مکرھا) أو مخطئا أو ذاھلا أو ساھیا (أو ناسیا) بأن حلف أن لا یحلف ثم نسی و حلف، فیکفر مرتین: مرۃ لحنثہ وأخری إذا فعل المحلوف علیہ مبنی لحدیث(ثلاث ھزلھن جد) منھا الیمین (فی الیمین أو الحنث) إلخ۔
وفی الشامیۃ:تحت (قوله في اليمين أو الحنث) متعلق بقوله ولو مكرها أو ناسيا أي سواء كان الإكراه أو النسيان في نفس اليمين وقد مر أو في الحنث بأن فعل ما حلف عليه مكرها أو ناسيا أي سواء كان الإكراه أو النسيان في نفس اليمين وقد مر أو في الحنث بأن فعل ما حلف عليه مكرها أو ناسيا لأن الفعل شرط الحنث وهو سبب الكفارة والفعل الحقيقي لا ينعدم بالإكراه والنسيان إلخ۔(کتاب الأیمان، ج 3، ص 709، ط:سعید)۔
وفی العناية شرح الھداية:ومن فعل المحلوف عليه ناسيًا أو مكرهًا فھو سواء) أي فھو ومن فعله مختارًا سواء إلخ۔ (کتاب الایمان، ج 5، ص 65، ط:سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: ولو قال لامرأته قبل الدخول بھا أنت طالق إن دخلت هذه الدار وإن دخلت هذه الدار أو وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق وإن دخلت هذه الدار فإن أبا يوسف ومحمدا قالا: أي الدارين دخلت طلقت وسقطت اليمين ولا تطلق بدخول الدار الأخرى لأنه لما أعاد حرف الشرط مع الفعل فلم يكن عطفا على الأولى في الشرط بل صار ذلك يمينا أخرى أضمر فيھا الجزاء فأيھما وجد نزل الجزاء وانحلت اليمين لأن جزاء الثاني لم يبق إلخ۔ (فصل فی حکم الیمین التی تعلق بھا الطلاق و العتاق،ج 3، ص 32، دار الکتب العلمیۃ)۔