کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی وائف کو غصے کی حالت میں پانچ ماہ قبل تین مرتبہ مذکور الفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ بولے ہیں، اس صورت میں کیا ہماری طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ اور دوبارہ ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں مذکور الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ بول دئیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت عدّت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے،چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے، مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الھندیۃ: يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا فی الجوهرة النيرة، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق و ركنه و شرطه و حكمه و وصفه و تقسيمه، فصل فيمن يقع طلاقه و فيمن لا يقع طلاقه، ج 1، ص 353، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: (وأما البدعی) فنوعان بدعی لمعنى يعود إلى العدد، وبدع لمعنى يعود إلى الوقت (فالذی) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا فی طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين فی طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق و ركنه و شرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، الطلاق البدعی، ج 1، ص 349، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة وثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية،الخ (كتاب الطلاق، الباب السادس: فی الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج 1، ص 473، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-