محترم مفتی صاحب !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میں آپ کے سامنے ایک نہایت نازک اور اہم مسئلہ رکھنا چاہتی ہوں اور گزارش ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔واقعے کی مکمل تفصیل:ایک دن میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ بحث کے دوران جب شوہر نے مجھے مارنے کی کوشش کی تو میں نے کہا:“شریعت میں بیوی کو مارنے کی اجازت نہیں ہے، یہ غلط ہے۔یہ سن کر وہ شدید غصے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ اگر بات سمجھ نہیں آ رہی تو آپ میرے والدین سے بات کرلیں، مگر مارنا جائز نہیں۔ اس پر شوہر نے کہاتو پھر طلاق دے سکتا ہوں، شریعت میں اجازت ہے۔یہ ان کا معمول کا انداز ہے، جب میں ان کی بات نہ مانوں تو وہ اکثر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں، تاکہ میں دباؤ میں آ جاؤں۔میں نے جواب میں کہا کہ: ہاں، یہ سن کر وہ اچانک جذباتی ہو گئے اور غصے میں بولے:“دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، دے چکا ہوں” (تین بار ایک سانس میں )میں نے بعد میں شوہر سے تین بار پوچھا“کیا آپ نے واقعی طلاق دینے کی نیت سے یہ کہا تھا؟”تو انہوں نے صاف طور پر کہا:نہیں، میری نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی، میں تو ذہنی طور پر طلاق کے لیے تیار ہی نہیں تھا، غصے میں حواس کھو بیٹھا اور وہ الفاظ منہ سے نکل گئے،لیکن سچ میں میری نیت نہ تھی، شدید غصےمیں نکل گیا،انہوں نے مزید وضاحت کی کہ میری نظر میں طلاق تب ہوتی ہے جب میں واضح الفاظ میں تین بار کہوں: میں طلاق دیتا ہوں، جبکہ میں نے یہ الفاظ کہے ہی نہیں، صرف "دے چکا ہوں"’ کہا،اور میری علم میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ دو سرے الفاظ سے بھی ہو تی ہے اور اس میں نیت دیکھی جاتی ہے، میں تو یہی سمجھتا تھا کہ طلاق بولے گے تب ہی طلاق ہوتی ہےاور: طلاق ہو گئی، کا جملہ تو میں نے ڈرا نے اور دھمکانے کے لئے کہا تھا ، لیکن اصل میں میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔میری عاجزانہ گزارش ہے کہ ان تفصیلات کی روشنی میں ہمیں یہ بتایا جائے کہ:کیا اس صورت میں شرعی طور پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں جھگڑے کے دوران سائلہ کی جانب سے طلاق کے مطالبہ پر جب شوہر نے مذکور الفاظ" دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، " تین بار کہہ دیے اگرچہ اس سے طلاق کی نیت نہ بھی ہو تب بھی اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شریعہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگى۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: 230]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١) ج:7 ص: 43 ط: بالمطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية سنة 1311 ه]
وفي الفتاوى الهندية: امرأة قالت لزوجها طلقني فقال لها لست لي بامرأة قالوا هذا جواب يقع به الطلاق ولا يحتاج إلى النية اهـ [كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج:1 ص:356 ط: رشيدية]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص: 473 ط: رشيدية)]