محترم! عرض یہ ہے کہ میں نے دوسری شادی کی تھی، پھر گھر والوں اور میری پہلی بیوی کی شدیدمخالفت ، میرے بیٹے کی خود کشی کی کوشش اور دوسری بیوی کو یعنی اس کی ماں کو جان سے مارنے کی دھمکی ، ان سب باتوں کی وجہ سے دوسری بیوی کو طلاق دینی پڑگئی، اور میں نے وائس میسج میں تین مرتبہ یہ الفاظ بول کر بھیجے کہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ میرا تعلق شیعہ اہلِ تشیع میں سے جبکہ دوسری شادی کرنے پر میں سنی اہلِ سنت قبول کرچکا تھا، اور اب پھر اہلِ تشیع ہوچکاہوں، دوسری بیوی کا تعلق اہلِ سنت سے ہے، اس سارے واقعہ کو ایک سال گزر چکا ہے، میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، اپنی دوسری بیوی کو پھر سے نکاح میں لینا چاہتا ہوں، دین میں کیا گنجائش ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں،اپنی غلطی و گناہ کی وجہ سے سخت پریشان ہوں۔
نوٹ:۔ طلاق تین مرتبہ واٹس ایپ پر وائس کرکے دی تھی ۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل مسمی” ......“ نے ایک سال قبل اپنی پہلی بیوی کی مخالفت، بیٹے کے خود کشی کرنے اور اپنی سوتیلی ماں کو قتل کرنے کی دھمکی پر اپنی دوسری بیوی کو مذکور الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین مرتبہ بول کر واٹس ایپ پروائس کرکے ارسال کردیئے ،اگر یہ طلاق رخصتی یا خلوتِ صحیحہ کے بعد دیدی گئی ہو تو اس سے سائل کی دوسری بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ: إذا قال لامرأتہ أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا إلخ(کتاب الطلاق، الباب الثانی فی إیقاع الطلاق، ج: 1، ص: 355، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الھدایۃ: و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ إو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا والأصل فیہ قولہ تعالی فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و المراد الطلقۃ الثالثۃ إلخ(کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 2، ص: 92، ط: مکتبہ انعامیۃ)۔