کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ 2025/3/28 کو لڑکے اور لڑکی دونوں کے درمیان باہم رضامندی سے طلاق ہوئی، جس میں تین مرتبہ یہ الفاظ درج ہیں کہ ” میں .......کو طلاق دیتاہوں“ ہم نے اہلِ حدیث سے فتویٰ حاصل کیا تھا، تو انہوں نے لکھ کر دیا تھا کہ طلاق نہیں ہوئی ۔ پھر ہم دونوں چھ ماہ تک ایک ساتھ رہنے لگے 2025/9/20 تک ۔ کچھ عرصے کے بعد لڑکی نے کہا کہ میرا دل اس فتوے کو تسلیم نہیں کررہاہے، پھر میں نے 2025/7/13 کو نیا طلاق نامہ بناکر دیا، پھر ہم الگ ہوگئے۔ لڑکی نے 2025/ 10/5 کو دوسری شادی کرلی۔ کیا یہ شادی صحیح ہےتاریخ کے حساب سے ؟ عدت کے حساب سے عدت کس تاریخ سے شروع ہوگی ؟ اور کتنے مہینے کی ہوتی ہے؟ دونوں طلاق نامہ منسلک ہیں۔
نوٹ: غیر مقلدین کے فتوی کے باوجود مجھے یہ لگتا تھا کہ میں حرام میں رہتاہوں ،یہ فتویٰ مجھے صحیح نہیں لگ رہاتھا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو 2025/03/28 میں مذکور منسلکہ طلاق نامہ کے ذریعے تین طلاقیں دیں ، تو اسی وقت سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سائل نہ رجوع کر سکتا تھا اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم نکاح کرسکتا تھا۔ جبکہ سائل اور مذکور لڑکی کا ایک ساتھ رہنا ناجائز اور حرام تھا۔ لہٰذا تین طلاقوں کے بعد دونوں کے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہواہے ، اس کی وجہ سے دونوں پر لازم ہے کہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔ تاہم اگر کسی سے مسئلہ پوچھنے کی بناء پر عمل کرتے ہوئے وہ دونوں چھ ماہ تک ساتھ رہے اوراس دوران میاں بیوی والے تعلقات بھی قائم کیے تھے ، تو اس کی وجہ سے عدت ختم نہیں ہوئی ، بلکہ آخری مرتبہ ہمبستری کے بعد از سر نو عدت شروع ہو گئی ہے ، چنانچہ اگرآخری ہمبستری اورنکاحِ ثانی کے درمیان عورت کی عدت مکمل ہوچکی ہو،یعنی عورت کو تین ماہواریاں گزرچکی ہوں تواس کی عدت کےختم ہوجانے کی وجہ سےنکاحِ ثانی درست ہے،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکرر مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر جمع کرادیں، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکم ِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ (البقرۃ:230)-
وفی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بكر: قوله تعالى: (الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) الآية،يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنهااھ(ج1،صـــ386)۔
وفیہ أیضاً: فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصيةاھ(ج1،صـــ387)۔
وفی حاشیۃ ابن عابدین: وذهب جمهور الصحابة والتابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثاھ(ج3،ص:233)۔
وفی الھندیۃ: و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ)-
وفیھا أیضاً: و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ(ج1،صـــ355)۔
وفی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: قال رحمه الله (عدة الحرة للطلاق أو الفسخ ثلاثة أقراء أي حيض) أي إذا طلقت الحرة أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق فعدتها ثلاثة قروء إن كانت من ذوات الحيض لقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228] والمراد به إذا طلقها زوجها بعد الدخول لما عرف في موضعه اھ(باب العدۃ، ج:3، ص:26، ناشر: دار الکتب الاسلامی)-