السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب، میری شادی کو 11 سال ہوچکے ہیں، شوہر کچھ کام نہیں کرتے، گھر ساس سسر کے پیسوں سے چلتا ہے، میں پچھلے 4 سال سے نوکری کررہی ہوں۔ 7 سال پہلے شوہر نے کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور پندرہ دن کے بعد رجوع کیا، پھر 1 اگست کو والدین کے سامنے دوبارہ کہا ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور پندرہ بعد رجوع کیا، 13 اگست کی رات کو کہا کہ ” میں تجھے دے چکا ہوں اور تیرا میرا رشتہ ختم“ براہِ کرم بتائیں کہ کیا تینوں طلاقیں مکمل ہوگئیں؟ کیا میرا اور شوہر کا نکاح ختم ہوگیا ہے؟اگر ختم ہوگیا ہے تو کیا دوبارہ نکاح ممکن ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیراً
نوٹ: آخری والا شوہر کا وائس میسج موجود ہے، جس میں انہوں نے بیوی کے ساتھ تلخ کلامی کی وجہ سے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں، اور آخر میں کہا اب سامان باندھ، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ آخری الفاظ ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے مختلف اوقات میں دو مرتبہ رجعی طلاقیں دے کر دوران عدت رجوع کر لیا تھا تو آئندہ اس کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا، لیکن اب جب حالیہ واقعہ میں (جس کی تفصیل وائس نوٹ میں موجود ہے) سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ ”میں تجھے دے چکا ہوں اور تیرا میرا رشتہ ختم“ آخری طلاق دینے کی نیت سے کہہ دیے ، تو اس سے سائلہ پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بکر: قولہ تعالی: (الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح بإحسان)الآیۃ، یدل علی وقوع الثلاث مع کونہ منھیا عنھا الخ(ج 1، ص 386)۔
وفی الدر المختار: : (و) الکنایات (لا تطلق بھا) قضاء (إلا بنیۃ أو دلالۃ الحال) وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب، الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ أو دلالۃ الحال) المراد بھا الحالۃ الظاھرۃ المفیدۃ لمقصودہ ومنھا ما تقدم ذکر الطلاق بحر عن المحیط، ومقتضی إطلاقہ ھنا کالکنز أن الکنایات کلھا یقع بھا الطلاق بدلالۃ الحال الخ(باب الکنایات، ج 3، ص 296،297، ط: سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: و إذا قال لإمرأتہ انت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً الخ(ج 1، ص 355)۔
و فیھا أیضاً: و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ(ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 376 ط: ماجدیہ)۔
و فی الھدایۃ: وأما الضرب الثانی وھو الکنایات، لا یقع بھا الطلاق إلا بالنیۃ أو بدلالۃ الحال لأنھا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ وغیرہ فلا بد من التعیین أو دلالتہ الخ ( کتاب الطلاق ج 2 ص 373، ط: شرکت علمیۃ )۔