کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ .... کو میرے شوہر....یہ جملہ کہاکہ اگر میری والدہ کی اجازت کے بغیرگھر سے نکل گئی، تو مجھ پر طلاق ہو، طلاق ہو، طلاق ہو۔(پشتو زبان کے الفاظ :کہ تہ زما دہ مور دہ اجازت نہ بغیر دکور نہ اووتےنو پہ ما بہ طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے، طلاقہ ئے“ )اس کے بعد میں ساس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلی ہوں، اب لوگ کہتے ہیں کہ تین طلاق ہو چکی ہیں، تو معلوم یہ کرنا ہےکہ اس صورت میں کیا واقعی طلاق ہو گئی ہیں یا نہیں؟اگر ہوئی ہے تو اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نےجو الفاظ بولے ہیں ، چونکہ اس میں طلاق کے درمیان حرفِ عطف موجود نہیں، اور فقہاء کرام کے تصریحات کےمطابق مدخول بہا (یعنی جس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو)عورت کے طلاقوں کو اگر کسی شرط کیساتھ معلق کیا جائے اور وہ شرط مقدم بھی ہو، اور الفاظِ طلاق کے درمیان حرفِ عطف موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں صرف ایک طلاق معلق ہوتی ہے،باقی منجز یعنی فوراً واقع ہو جاتی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں صرف پہلی طلاق معلق ہوئی ہے، بقیہ دو طلاقیں سائلہ پر فوراً واقع ہو چکی تھیں ، جس کے بعد اگر میاں بیوی نے دورانِ عدت بوس وکنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کیا ہو، تواس سے رجوع بھی درست ہو چکاہے، اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، اور ان کا ساتھ رہنا بھی شرعاً درست ہوگا، البتہ ایک طلاق بدستور معلق رہے گی، چنانچہ اگر سائلہ اپنی ساس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلےگی تو اس پر معلق طلاق واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی، اس لئے سائلہ کو ساس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے، تاہم اگر سائلہ اس تعلیق کو ختم کرنےکی خواہش مند ہو تو سائلہ کی ساس کو چاہیئے کہ سائلہ کو اس طرح کے الفاظ ” کہ تم جب جب چاہو اورگھر سے نکلو گی تو میری طرف سے ہمیشہ کے لئے اجازت ہے“ کہہ کر ہمیشہ کیلئے اسے اجازت دیدے، چنانچہ اس کے بعد اگر کسی مخصوص موقع پر ساس کی اجازت کے بغیر گھر سےنکلے گی تو اس پر طلاق واقع نہ ہوگی۔
کما فی التاتارخانیۃ : کما اذا قال إن دخلت الدار فأنت طالق طالق طالق وکانت المرأۃ غیر مدخول بھا فاللفظ الاول معلق بالشرط والثانی ینزل للحال والثالث لغو ثم اذا تزوجھا ودخلت الدار نزل المعلق، ولو دخلت بعد البینونۃ قبل التزوج لا یقع الطلاق ولو کان مدخولا بھا فالاول یتعلق بالشرط والثانی والثالث ینزلان فی الحال الخ (الفصل الرابع فیما یرجع الی صریح الطلاق، ج4، ص431، ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھندیۃ : وان علق الطلاق بالشرط ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق وطالق وطالق وھی غیر مدخولۃ بانت بواحدۃ عند وجود الشرط فی قول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ولغا الباقی وعندھما یقع الثلاث وان کانت مدخولۃ بانت بالثلاث اجماعاً الا ان علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یتبع بعضھا بعضا فی الوقوع وعندھما یقع الثلاث جملۃ واحدۃ وان کان الشرط مؤخرا (الی قولہ) ھذا کلہ اذا ذکر بحرف عطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدما فقال ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وھی غیر مدخولۃ فالاول بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو ثم اذا تزوجھا ودخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد البینونۃ قبل التزوج حنث ولا یقع شئی، وان کانت مدخولۃ فالاول معلق بالشرط والثانی والثالث یقعان فی الحال الخ (الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول، ج1، ص374، ط: سعید)۔
وفیھا ایضاً: والحيلة في عدم الحنث أن يقول أذنت لك بالخروج في كل مرة أو يقول أذنت لك كلما خرجت فحينئذ لا يحنث وكذا إذا قال كلما شئت الخروج فقد أذنت لك أو أذنت لك بالخروج أبدا أو أذنت لك الدهر كله فإن نهاها بعد ذلك نهيا عاما فعند محمد - رحمه الله تعالى - يصح نهيه كذا في السراج الوهاج وهو اختيار الفضلي وعليه الفتوى الخ (الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ، ج1، ص439، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: الرجعۃ ابقاء النکاح علی ماکان مادامت فی العدۃ کذا فی التبیین الخ
وفیھا ایضاً: وإذا طلق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک أو لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج1، ص 471، ط: ماجدیۃ)۔