میرے بھائی نے اپنی بیوی کو اپنے ہوش و حواس میں طلاق دی ،اور تین طلاق ایک ہی ساتھ دی تھیں،اس کے بعد بھابھی نے تین ماہ دس دن عدت گزاری ،اس بات کو چار پانچ ماہ گزر چکے ہیں ،اب میرا بھائی دوبارہ میری بھابھی سے رجوع کرنا چاہتا ہے ،آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا حلالہ کروا کر دوبارہ میرے بھائی سے نکاح کر سکتی ہے ؟حلالہ کے بارے میں تفصیل سے بتائیں، اور حلالہ کے بعد بھابھی اپنے میکہ میں رہے گی یا ہمارے ساتھ رہے گی ؟کیونکہ بھابھی کے دونوں بھائی معذور ہیں ،اور وہ اس کی کفالت نہیں کر سکتے ،اور ہمارے اوپر نیچے کا مکان ہے بھائی بھی ہمارے ساتھ رہتا ہے ،اور میری بھابھی میری چاچا زاد ہے ،کیا اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ حلالہ کر سکتی ہے ؟نوٹ:طلاق کے الفاظ یہ تھے طلاق ہے ، طلاق ہے ، طلاق ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے “تین بار کہہ دیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ مطلقہ بیوی اپنی عدت گزار کر بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے (چاہے وہ رشتہ دار ہو یا کوئی اور )عقدِ نکاح کرے پھر اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کےلئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد اسے طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو ، تو نئے مہر پر گواہوں کہ موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسر کر سکتے ہیں تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرے ،یہ مکروہِ تحریمی ہے ،اس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ۔
لہذا حلالہ شرعیہ (جس کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے)کے بعد اگر سائل کا بھائی اپنی مطلقہ بیوی کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو شرعا ً ان کا آپس میں نکاح کرنا جائز اور درست ہوگا، جبکہ اگر کوئی شخص سائل کی مطلقہ بھابھی سے نکاح کرنے کے بعد اسے طلاق دیدے تو سائل کی بھابھی کے ذمہ عدت کے ایام شوہر کے گھر گزارنے ہوں گے ۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ (الأیۃ:230، سورۃ بقرۃ ،) ۔
و فی احکام القرآن للجصاص: فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الإثنین (إلی قولہ ) منتظم لمعان منھا تحریمھا علی المطلق ثلاثا حتی تنکح زوجا غیرہ مفید فی شرط ارتفاع التحریم الواقع بلطلاق الثلاث العقد و الوطء جمیعا لأن النکاح ھو الوطء فی الحقیقۃ ( إلی قولہ ) عن عائشۃ أن رفاعۃ القرضی طلق إمرأۃ ثلاثا فتزجت عبد الر حمٰن بن زبیر فجاءت إلی الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت یا نبی اللہ إنھا کانت تحت رفاعۃ فطلقھا أخر ثلاث تطلیقات (الی قولہ ) إلا مثل ھدبۃ الثوب فتبسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال لعلک تریدین ان ترجعی إلی رفاعۃ لا حتی تذوقی عسیلۃ و یذوق عسیلتک الحدیث الخ ( ج: 1 ، ص: 390 ، ط: سھہل اکیڈمی)۔
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ،ص 1243 ،رقم :2639،ط :البشرى)۔
و فی سنن الترمذی: عن جابر بن عبد اللہؓ و عن الحارث عن علیؓ قالا إن رسول اللہ ﷺ لعن المحل والمحلل لہ (باب ما جاء فی المحل و المحلل لہ ج:1،ص:442،ط: بشری)۔
و فی الدر المختار: (و تعتدان) أي معتدة طلاق و موت (في بيت وجبت فيه) و لا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل ، أو تخاف) انهدامه ، أو (تلف مالها ، أو لا تجد كراء البيت) و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ (باب العدۃ فصل فی الحداد ج:3،ص:536 ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: و أما البدعی فنوعان بدعی لمعنی یعود إلی العدد و بدعیی یعود إلی الوقت فاالذی یعود إلی العدد أن یطلقھا ثلاثا فی طھر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بکلمتین متفرقتین فإذا فعل ذلک وقع الطلاق و کان عاصیا الخ ( کتاب الطلاق ج: 1، ص: 349، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا أیضا: و إذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا الخ ( کتاب الطلاق الباب الثانی فی إیقاع الطلاق ج 1، ص 355، ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ،ج:1،ص:473،ط: ماجدیۃ)۔