محترم آپ سے ایک فتویٰ لینا ہے، میرا ایک چھوٹا سا مسلئہ ہے، میں نے آج سے 6 ماہ پہلے کورٹ میں نکاح کیا تھا اور لڑکی کو اپنے گھر چھوڑ دیا اور میں اپنے گھر آگیا کچھ دن گزرنے کے بعد اس نے اپنے گھر میں بتایا کہ آپ کے گھر میں میرے گھر والے بات کرنے گئے لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس نکاح کو جائز نہیں سمجھتے آپ اس نکاح کو ختم کرے تو پھر اس بات کو ختم ہوئے کچھ دن گزرنے کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے دوبارہ بولایا اور کہا کہ اس نکاح کو ختم کرو اور عزت سے کرو ،ابھی آپ اس لڑکی کو طلاق دو اور شریعت کے مطابق آئے اور لے جائے، اس ٹائم سب کچھ نارمل تھا اور طلاق دونوں لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی چاہتے تھے تو میں نے گھر والوں کے کہنے پر مجبورا طلاق دے دی تو میں دوبارہ نکاح کر سکتا ہوں یا نہیں اور میں نے اس لڑکی کے ساتھ کچھ ناجائز نہیں کیا ؟
نوٹ:خلوت نہیں ہوئی، طلاق زبانی "میں طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ بولا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل اور مذکور لڑکی کا اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کورٹ میرج کرنا انتہائی نامناسب فعل تھا جو خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، تاہم سائل اور اس کی بیوی اگر ایک دوسرے کے باہم کفو ہوں تو ان کا یہ نکاح شرعا منعقد ہو چکا تھا اور اس نکاح کے بعد دونوں کے لیے اس رشتے کو برقرار رکھنے کا حق بھی حاصل تھا، لیکن جب مذکور لڑکی کے والدین کے اصرار پر سائل نے اسے خلوت صحیحہ (ایسی تنہائی کا میسر ہونا جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے شرعی اور طبعی کوئی رکاوٹ نہ ہو) سے قبل ان الفاظ "میں طلاق دیتا ہوں" کے ساتھ تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا، اور بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہیں، جبکہ وہ لڑکی عدت گزارے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اور سائل اس کے ساتھ اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو بڑوں کو اعتماد میں لے کر اس سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے، البتہ آئندہ کے لیے اس کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔