السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہےکہ آج سے تقریباً سات آٹھ سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ ”میں نے تمہیں طلاق دی“اور کچھ ہی دنوں کے بعد میں نے رجوع کرلیا تھا، اورہماری زندگی بہت اچھے طریقے سے گزررہی تھی،پھراتنے سالوں کے بعد کچھ تلخ کلامی ہوئی ،اور جھگڑا ہوا، جس کی وجہ ایک ٹچ موبائل فون جو کہ میری بیٹی کے پاس سے برآمد ہوا، جس کو میں نے لاکر نہیں دیا تھا، اور میں نے بیوی سے پوچھ گچھ کی جس کا وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکی،اور جھگڑا شروع ہوگیا ،اور اس بات پر میں نے غصے میں آکر اور شدید غصے کی حالت میں 2025/10/20بروز پیر رات 9:40پر میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے دی”میں نے طلاق دی تم کو“اس کے بعد میں بیٹے کو N.E.D یو نیورسٹی لینے چلا گیا، جب واپس آیا تو میرے گھر کے دروازے کھلے ہوئے تھے، اور میری بیوی میری جوان بیٹی کو لے کر اپنے بھائی کے گھر چلی گئی ، یہ بات بھی مجھے بعد میں پتہ چلی کہ وہ بھائی کے گھر پر ہے ، اور میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ اللہ تعالی کو گواہ بناکر حلفیہ بتاتاہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق دی تھی جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں، لیکن اب اپنے بھائیوں کے پاس جانے کے بعد وہ کہتی ہے کہ مجھے دو طلاقیں دی تھی ،اور اب ان دو طلاقوں کا گواہ اس کے پاس کوئی نہیں ہے ،حالانکہ اسے میں نے ایک ہی طلاق دی تھی ،آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں اور اللہ تعالی اور اس کے رسو ل ﷺ کے مطابق مجھے فتویٰ درکار ہے اور میں یہ بھی بتادوں کے میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور ہماری شادی کو تقریباً 26 سال ہوگئے ہیں ،اور اپنی بیوی کو میں اپنے گھر لانا چاہتاہوں، اس سلسلے میں مفتی صاحب !آپ میری رہنمائی فرمائیں ، شکریہ
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں بھی بیوی کو طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نےسات آٹھ سال قبل پہلی مرتبہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دینے کے بعددوران عدت رجوع کرلیا تھا ،تووہ رجوع درست ہوگیا تھا ،تاہم اس کے بعد سائل کے پاس مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا ،لہذا اب حالیہ واقعہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو ایک ہی سانس اور غصہ کے میں تین مرتبہ مذکورالفاظ” میں نے طلاق دی تم کو‘‘ کہہ دیے تو اس سے باقی ماندہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،جبکہ چوتھی طلاق محلِ طلاق نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ با ہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں ،گے جبکہ عورت ایام ِعدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الھندیۃ : واذا قال لامراتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا الخ (کتاب الطلاق ، ج: 1 ، ص: 355 ، ط: ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلی هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز و جل - { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره [ البقرة: 230 ] ، و سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة، الخ (فصل فی حكم الطلاق البائن ، ج: 3 ، ص: 187 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ( کتاب الطلاق، فصل فی ما تحل بہ المطلقہ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ)۔