السلام علیکم مفتی صاحب
میرا سوال یہ کہ ایک آدمی کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تو شوہر نے 4 بار یہ الفاظ بولے: "لے طلاق، لے طلاق، لے طلاق، لے طلاق"۔
کیا شریعت کے مطابق ایسے الفاظ بولنے سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟
عبدالشکور
سوال ميں مذکور الفاظ "لےطلاق " سےاگر شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو،جس پر وہ قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہو تو ایسی صورت میں مذکور الفاظ سےقضاء اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار رہےگا، اور اگر مذکور الفاظ سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو توان الفاظ سےتين طلاقين عورت پر واقع ہوکر حرمتِ مغلظلہ ثابت ہو جا یئگی،جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہو نے کی وجہ سے لغو ہو جا ئیگی۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اردو محاورے میں مذکورہ جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں،ایک یہ کہ "جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں تو پھر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق لے لو"اور دوسرا مطلب اردو محاورے میں یہ بھی ہوسکتا ہےکہ"جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو پھر مجھ سے طلاق لے لو"یعنی مجھ سے طلاق طلب کرلو،اردو محاورے کے لحاظ سے مذکورہ جملے میں دونوں معنی کا یکساں احتمال ہے،اس کے بر خلاف "خذی طلاقک "میں عربی محاورے کی رُو سے دوسرا احتمال نہیں ،بلکہ وہ پہلے معنی پر صریح ہے،اسی لیے وہاں نیت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔اور جب شوہر کے مذکورہ جملے میں دونوں کا احتمال ہےتو کسی ایک معنی کی تعیین میں اس کا قول معتبر ہوگا،لہذا وہ جو ان الفاظ کو "دھمکی اور مستقبل کا ارادہ "بتلاتا ہے،اگر وہ اس پر حلف کرےکہ میرامقصد طلاق دینا نہ تھا،بلکہ بیوی کو طلاق کے مطالبے کا حکم دینا تھا،تو اس کا قول قضاءً معتبر ہوگا،اور ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی(ج 2ص353 مکتبہ: معارف القرآن کراچی)۔
و في رد المحتار:(قوله وغير ذلك إلخ) مثل: الطلاق عليك، وهبتك طلاقك، بعتك طلاقك، إذا قالت اشتريت من غير بدل خذي طلاقك، أقرضتك طلاقك، قد شاء الله طلاقك أو قضاه، أو شئت؛ ففي الكل يقع بالنية رجعي كما في الفتح(باب الكنايات،ج:٣،ص:٣٠٢،مط:سعيد)
وفیہ ایضاََ: (ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثةتأثيرا(على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى الخ ( باب الکنایات ج:٣،ص:٢٩٨،مط: سعید)
و في البحر الرائق: ولما كانت العلة في وقوع الرجعي بهذه الألفاظ الثلاثة وجود الطلاق مقتضى أو مضمرا علم أن لا حصر في كلامه بل كل كناية كان فيها ذكر الطلاق كانت داخلة في كلامه ويقع بها الرجعي بالأولى كقوله أنا بريء من طلاقك الطلاق عليك عليك الطلاق لك الطلاق وهبتك طلاقك إذا قالت اشتريت من غير بدل قد شاء الله طلاقك قضى الله طلاقك شئت طلاقك تركت طلاقك خليت سبيل طلاقك أنت مطلقة بتسكين الطاء أنت أطلق من امرأة فلان وهي مطلقة أنت طال بحذف الآخر خذي طلاقك أقرضتك طلاقك أعرتك طلاقك(باب الكنايات في الطلاق ج:٣،ص:٢٩٩،مط:سعيد)
و في فتح القدير: ويقع رجعيا في خذي طلاقك وأقرضتك وكذا في قد شاء الله طلاقك أو قضاه أو شئت يقع بالنية رجعيا.( فصل في الطلاق قبل الدخول ج:٣،ص:٤٠٠،مط:سعيد)
و فی الہندیہ:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان (الفصل الأول في الطلاق، الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)