گزارش عرض یہ ہے کہ میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں، کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، اور ہم نے کسی کو بتایا نہیں تھا،اور ہم ساتھ رہ رہے تھے، پھر چھ ماہ بعد میں نے اپنے دوست سے اپنی بیوی کا نکاح کروایا، جس میں مولوی ، دوست میری بیوی اور میں تھا،اور کسی کو کوئی خبر نہیں تھی، اس کے بعد میں اور میرے دوست گھر سے چلے گئے، اور دوسرے دن میرے دوست نے میرے موبائل سے میری بیوی کو طلاق دیدی، اس درمیان ان دونوں میں کوئی تعلق قائم نہیں ہوا، اب بیوی نے گھر والوں کو یہ سب بتا دیا ہے، کچھ گھر والے بول رہے ہیں کہ غلط ہے، تم دونوں غلط میں ساتھ رہ رہے ہو، آپ ہماری رہنمائی فرمائیں،ہم ساتھ میں رہ سکتے ہیں؟ ہم دونوں بہت پریشان ہیں ۔
نوٹ: سائل نے اپنی بیوی کو مجموعی طور پر تین طلاق دیدیں تھی، اور الفاظ یہ کہے تھےکہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔
واضح ہو کہ تین طلاق( طلاقِ مغلظہ) کے بعد بیوی کا دوبارہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنے کیلئے حلالۂ شرعیہ ضروری ہوتا ہے، جبکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ازداوجی تعلق قائم کرنا( اگر چہ ایک مرتبہ کیوں نہ ہو)لازم وضروری ہے،تعلق قائم کیے بغیر دوسرے شوہر سے طلاق لےکر سابقہ شوہر کے ساتھ رہنا شرعاً درست نہیں،لہذا سائل نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد بیوی نے اگر چہ عدت گزار کر سائل کے دوست کے ساتھ نکاح کیا ہو، لیکن اگر نکاح کے بعد دونوں کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو، اور اس سے پہلےدوسرےشوہر نےطلاق دیدی ہو (جیساکہ سوال میں مذکور ہے)تو ایسی صورت میں سائل کیلئے اپنی مطلقہ بیوی سے نکاح کرکے دوبارہ ایک ساتھ رہنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: فإن طلّقھا فلا تحلّ لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ الخ (سورۃ البقرۃ، پارۃ 2، آیۃ 230 )۔
و فی الھندیۃ: و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً أو یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1 ، ص 473 ، ط: ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ ایضآ حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ ( فصل و أما حکم البائن الخ، ج 3 ، ص 187 ، ط: سعید)۔