السلام علیکم!سلام کے بعد عرض ہے کہ میرے شوہر کو شادی سے پہلے کی ذہنی بیماری ہے جس کا وہ علا ج معالجہ بھی کروا چکے ہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ نشہ بھی کرتے ہیں ،ایسی حالت میں کچھ دن بعد جب وہ اپنے حواس میں نہ تھے، تو انہوں نے مجھے گواہوں کے سامنے طلاق کا لفظ استعمال کرتے ہوئے طلاق دی، اس کے بعد چار ماہ تک وہ اسپتال میں زیر علاج رہے ،اور گھر آ کر اس بات سے انکار کر دیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، ابھی تک قانونی طور پر انہوں نے مجھے کوئی نوٹس نہیں بھیجا، جب کہ پاکستانی قوانین کے مطابق زبانی طلاق کی کوئی اہمیت نہیں، جب تک کہ شوہر عدالتی طور پر طلاق کا نوٹس نہ بھیجے، اور ایک نوٹس ملنے کے بعد عدت کے دوران بیوی کو صلح کرنے کی بھی اجازت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ میرا عدت کا عرصہ زبانی طلاق ملنے کے بعد سے ختم ہو گیا ہے ، لیکن کیا میں پاکستانی قوانین کے تحت اور بالفرض پہلے نوٹس ملنے کے بعد صلح کے لیے دوبار ہ شوہر سے رجوع کر سکتی ہوں یا نہیں؟
مستفتیہ اس مسئلے پر اس سے پہلے فتوی 86757 بھی حاصل کرچکی ہے۔
منسلکہ فتوی 86757کے مطابق سائلہ کے شوہر نے جب نشے کی حالت میں زبانی طور پر اسے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے تھے (اگرچہ اس نے قانونی طور پر کوئی نوٹس نہ بھیجا ہو،اور نہ ہی شریعت مطہرہ کی نظر میں زبانی طور پر طلاق دینے کے لئے کسی نوٹس کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے ،بلکہ اس کے بغیر بھی الفاظِ طلاق کہہ دینے سے طلاق شرعاً واقع ہوجاتی ہے) تب بھی اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیرحلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا سائلہ کے شوہر کا ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد طلاق دینے سے انکارکرنا شرعاً درست نہیں،بلکہ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کو نکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(البقرہ:230)۔
وفی الھندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1/ 473)۔
وفی الھندیۃ : طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ و هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط اھ(1/ 353)۔
و فی الدر المختار : (و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل )،( و لو عبدا أو مكرها ) ( الی قولہ)( أو سكران ) و لو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجراً به يفتى اھ( 3/ 235)۔