1. پہلی طلاق: واضح طور پر دی گئی، بعد میں ہم نے صلح کر لی۔
2. دوسری طلاق: غیر یقینی، صرف دھمکی دی گئی، یاد نہیں کہ واقعی طلاق ہوئی یا نہیں، بعد میں صلح ہو گئی۔
3. تیسری طلاق: واضح طور پر دی گئی، بعد میں صلح نہیں ہوئی لیکن ہم معمول کے مطابق رہ رہے ہیں۔
اب میں حاملہ ہوں (تقریباً تین ماہ باقی ہیں) اور میری سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری شادی شریعت کے مطابق برقرار ہے یا نہیں۔
واضح ہو کہ طلاق کی دھمکی دینے یا وقوع طلاق میں شک سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ سائلہ کے خاوند نے پہلے واضح الفاظ میں سائلہ کو ایک طلاق دی تھی ، جس کے بعد رجوع بھی کرلیا تھا،لہذا اس سے ایک طلاق تو واقع ہوگئی ہے اور رجوع کرنے سے حسب سابق دونوں کا نکاح بھی برقرار رہا، جبکہ دوسری دفعہ کی طلاق چونکہ سائلہ کو یاد نہیں ہے،اگر سائلہ کا شوہر بھی طلاق کا اقرار نا کرتا ہو تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اور ان کا نکاح اسی طرح بدستور قائم رہا ۔ اس کے بعد تیسری بار جب سائلہ کے خاوند نے واضح الفاظ میں سائلہ کو طلاق دی تو اس سے بھی ایک طلاق رجعی واقع ہو کر مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہو گئیں اس کے بعد اگر عدت کے اندر سائلہ کا شوہر سائلہ سے رجوع کر لیتا ہے یا کر لیا ہو تو ان کا نکاح پہلے کی طرح قائم ہے ایسی صورت میں سائلہ کو اپنے نکاح کے حوالہ سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،تاہم آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کے فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔
کما فی الہندیۃ: في نوادر ابن سماعة عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا شك في أنه طلق واحدة أو ثلاثا فهي واحدة حتى يستيقن أو يكون أكبر ظنه على خلافه،اہ (کتاب الطلاق، الفصل الاول الطلاق فی الصریح، ج:1،ص: 363، مط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.اہ(باب صریح الطلاق، ج:3، ص: 283، مط: سعید)