السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے وکیل کے ذریعہ طلاق کا مقدمہ دائر کیا اور میں نے طلاق کی دستا ویزات پر دستخط بھی کر دیے، لہذا پوچھنا یہ ہے کہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تینوں طلاقیں واقع ہو کر ہمارا نکاح ختم ہو چکا ہے ؟کیا اب بھی میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے ؟براہِ کرم ہماری رہنمایی فرمائیں ۔ ( طلاق کے ڈاکیو منٹس منسلک ہے )
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق د ینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ،چنانچہ سائل نے جب منسلکہ ڈاکیو منٹس پر دستخط کر دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، اور شوہر کو دورانِ عدت ( تین ماہواری سے پہلے ) رجوع کا حق حاصل ہے ،اور رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ سائل یا تو زبانی طور پر رجوع کر لے ، مثلاً کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ ، یا عملاً میاں بیوی والا تعلق قائم کر لے ،یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھو لے تو اس سے بھی رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح برقرار رہے گا ،ورنہ دوران ِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہو جائے گا ،اورعورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ،اس کے بعد ساتھ رہنے کے لیے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنا لازم ہو گا ،بہر دو صورت آئندہ کے لیے سائل کےپاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، لہذا طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومۃ ونعنی با لمرسومۃ أن یکون مصدراً أو معنوناً مثل ما یکتب إلی الغائب وغیر مرسومۃ أن لا یکون مصدرا و معنوناً وھو علی وجھین مستبینۃ و غیر مستبینۃ فا لمستبینۃ ما یکتب علی صحیفۃ والحائط والأرض علی وجھہ یمکن فھمہ و قراأتہ وغیر مستبینۃ ما یکتب علی الھواء والماء (الی قولہ) ففی غیر المستبینۃ لا یقع الطلاق وإن نوی وإن کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ إن نوی الطلاق یقع وإلا فلا وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو ثم المرسومۃ لا تخلو إما ارسل الطلاق بان کتب أما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق وتلزمھا العدہ من وقت الکتابۃ الخ ج: 1، ص: 378،ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: و إذا طلق الرجل إمرأۃ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک أو لم ترض الخ (الباب السادس فی الرجعۃ ج1،ص468،ط:ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: الرجعۃ ابقاء النکاح علی ما کان دامت فی العدۃ کذا فی التبیین و ھو علی ضربین سنی و بدعی ( فالسنی) أن یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو أن یقول لھا راجعتک أو راجعت إمرأتی و لم یشھد علی ذلک أو اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو بدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و إن راجعھا بالفعل مثل أن یطأھا أو یقبلھا بشھوۃ فإنہ یصیر مراجعا عندنا إلا أنہ یکرہ لہ ذلک و یستحب أن یراجعھا بعد ذلک بالإشھاد الخ ( البا ب السادس فی الرجعۃ ج:1، ص: 468، ط: ماجدیۃ)۔