میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دی ہیں، کیا طلاق ہوگئی ؟
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں ایک سانس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں،بہر صورت اس سے شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور نکاح ختم ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتاہے اور نہ ہی حلالہ کے بغیر باہم نکاح ہوسکتاہے۔ لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
ففى تفسير القرطبي : قوله تعالى: (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره(3/147)۔
وفی الھندیة: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي. اھ (1/348)۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 233):
«وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.»
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0