طلاق

خلوت سے پہلے منکوحہ کو میسج میں " طلا ق ،طلاق ،طلاق" لکھ کر بھیجنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

فتوی نمبر :
88550
| تاریخ :
2025-11-03
معاملات / احکام طلاق / طلاق

خلوت سے پہلے منکوحہ کو میسج میں " طلا ق ،طلاق ،طلاق" لکھ کر بھیجنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!مفتی صاحب! میرا نام زید ہے ،اور میرا نکاح ہوا ہے، اور میں اپنی بیوی سے فون پر بات کرتا ہوں ،اور میسج میں بھی، ابھی رخصتی نہیں ہوئی ،تو میں نے ویسے ہی لکھ دیا تھا کہ" طلاق طلاق طلاق " نہ ہی میرے دل میں جو ہے، یہ کہ اس کو طلاق دینا تھا، نہ میرے ذہن میں تھا ایسا، اور نہ ہی میری زبان پہ ایسے الفاظ تھے، میں نے لکھا تھا، اور نہ میں نے اس کے لیے لکھا تھا، نہ اس کو مخاطب کیا تھا ،بس ویسے ہی لکھا تھا ،یہ اللہ جانتا ہے ،کیا اس سے طلاق تو نہیں ہوئی؟ میں نے بس ویسے ہی لکھا تھا ،اس کو طلاق دینے کے لیے نہیں، صرف ویسے ہی لکھا تھا میسج پہ ،اور نہ ہی اس کو مخاطب کیا تھا کہ یہ میں اس کے لیے لکھ رہا ہوں کہ اس کو میں طلاق دوں گا ،یا ایسی کوئی بھی بات نہیں کی ،نہ میرے دل میں نہ میرے ذہن میں، بس ویسے ہی میں نے لکھا،اس بات کو میرا اللہ جانتا ہے ،اور اللہ کو بھی پتہ ہے کہ میرے دل میں ایسا کوئی وہ نہیں تھا کہ میں اس کو طلاق دے رہا ہوں، ایسا کوئی بھی ارادہ نہ میرے دل میں تھا، نہ میری زبان میں تھا،نہ میرے ذہن میں تھا،اور نہ لکھتے ہوئے ،بس میں نے میسج لکھا،اور ڈیلیٹ کر دیا تھا،بس یہ الفاظ ویسے ہی لکھے تھے میں نے۔نوٹ: سائل کی اپنی زوجہ سےفون پر بات ہورہی تھی ،بات چیت کے دوران اس کی بیوی نے ایک مرتبہ مطالبہ بھی کیا ،ہماری اس پر کافی بحث ہوئی ، پھر ہم نے نارمل باتیں کرنا شروع کردیں،پھر اس کے بعد بالکل آخر میں ویسے ہی نہ میرا ارادہ تھا،اور نہ ہی میں نے سوچا تھا ،بس ویسے ہی میں نے مذکور الفاظ لکھ کر اپنی بیوی کو بھیج دیے تھے ،بعد میں میں نے میسج ڈلیٹ بھی کر دیاتھا،اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ ویسے ہی لکھ کر بھیج دیا ہے ،دی نہیں ہے ،جبکہ اس سے پہلے ہمارے گھر میں ایک دعوت تھی ،اس میں میری منکوحہ بھی آئی تھی،ہمارے گھر میں تین کمرے تھے ،ایک کمرے میں ہم دونوں ساتھ بیٹھے رہے اکیلے،اور تقریباً آدھا گھنٹہ گزارہ، البتہ اس دوران ہمارا کوئی ملاپ وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوا، دروازہ بالکل کھلا ہوا تھا ، اور اس کمرے میں لوگ آجا بھی سکتے تھے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی منکوحہ سے جس کمرہ میں ملاقات کی ہے ، اس کا دروازہ اگر اس طور پر کھلا ہواہو کہ باہر لوگوں کی آمد و رفت جاری ہو ، اور کسی وقت بھی باہر سے کسی شخص کے کمرہ میں داخل ہونے کا اندیشہ ہو ، جس کی وجہ سے سائل اور اس کی منکوحہ کو مکمل اطمینان کی کیفیت حاصل نہ ہو تو ایسی صورت میں اس ملاقات سے میاں و بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ متحقق نہیں ہوئی ،لہذا اس کے چند ایام کے بعد سائل نے جب اپنی منکوحہ کو مذکور الفاظ " طلاق طلاق طلاق " میسج پر لکھ کر بھیج دیے ،اگرچہ سائل کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو،اور نہ ہی سائل نے طلاق دینے کا ارادہ کیا ہو،تب بھی اس کی منکوحہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے، لہذا اب بغیر تجدید نکاح کے رجوع درست نہیں ،جبکہ سائل کی بیوی عدت گزارےبغیر اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
تاہم اگروہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں،تو اس کے لئے باقاعدہ شرعی گواہاں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، البتہ تجدید نکاح کے بعد سائل کےپاس آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،بشرطیکہ اس کے علاوہ کوئی طلاق نہ دی ہو، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا ، تو اس سے اس کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی ،جس کے بعد حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع بھی درست نہ ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الشامیۃ:تحت(قوله أو لم ينو شيئا)لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية،ولكن لابد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح،وحققه في النهر اھ(3/250)۔
وفی الدرالمختار:(والخلوة)مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء(بلامانع حسي)کمرض لأحدهما يمنع الوطء(وطبعي)كوجود ثالث عاقل(ولو)كان الزوج( مجبوبا أو عنينا أو خصيا(في ثبوت النسب)ولو من المجبوب
(و)في(تأكد المهر)المسمى(و)مهر المثل بلا تسمية و(النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها ) في عدتها( وحرمة نكاح الأمة ومراعاة وقت الطلاق في حقها )وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار (3/114)۔
وفی ردالمحتار تحت:(قولہ وبیت بابہ مفتوح)أی بحیث لونظر إنسان رآھما،وفیہ خلاف،ففی مجموع النوازل:إن کان لایدخل علیھما إلا بإذن فھی خلوۃ،واختار فی الذخیرۃ أنہ مانع وھو الظاھر بحر،ووجھہ أن إمکان النظر مانع بلاتوقف علی الدخول فلافائدۃ فی الإذن و عدمہ إلخ (3/116)۔
وفی الھدایۃ:إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها " لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة۔( ،فصل في الطلاق قبل الدخول/ 1/۔233)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق:قد شرط المصنف في إقامتها مقام الوطء شروطا ترجع إلى أربعة أشياء الخلوة الحقيقية وعدم مانع حسي وعدم مانع طبعي وعدم مانع شرعي من الوطء.فالأول للاحتراز عما إذا كان هناثالث فليست بخلوة ،سواء كان ذلك الثالث بصيرا أو أعمى أو يقظانا أو نائما بالغا أو صبيا يعقل وفصل في المبتغى في الأعمى فإن لم يقف على حاله تصح وإن كان أصم إن كان نهارا لا تصح وإن كان ليلا تصح اھ۔
وللاحتراز عن مكان لا يصلح للخلوة والصالح لها أن يأمنا فيه اطلاع غيرهما عليهما كالدار والبيت ولو لم يكن له سقف، وكذا الخيمة في المفازة والمحل الذي عليه قبة مضروبةوكذا البستان الذي له باب وأغلق فلا تصح في المسجد والطريق الأعظم والحمام وسطح الدار من غير ساتر والبستان الذي ليس له باب وإن لم يكن هناك أحد واختلف في البيت إذا كان بابه مفتوحا أو طوابقه بحيث لو نظر إنسان رآهما ففي مجموع النوازل إن كان لا يدخل عليهما أحد إلا بإذن فهي خلوة واختار في الذخيرة أنه مانع وهو الظاهر(3/ 162):۔
وفی الفتاوى الهندية:والمكان الذي تصح فيه الخلوة أن يكونا آمنين من اطلاع الغير عليهما بغير إذنهما كالدار والبيت كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان ولا تصح الخلوة في الصحراء ليس بقربهما أحد إذا لم يأمنا مرور إنسان وكذا لو خلا على سطح ليس على جوانبه ستر أو كان الستر رقيقا أو قصيرا بحيث لو قام إنسان يقع بصره عليهما لا تصح الخلوة إذا خافا هجوم الغير فإن أمنا صحت الخلوة، كذا في الظهيرية ولو خلا بها في الطريق إن كانت جادة لا تصح، وإن لم تكن صحت هكذا في السراج الوهاج ولا تصح الخلوة في المسجد والحمام فإن حملها إلى الرستاق إلى فرسخ أو فرسخين وعدل بها عن الطريق كان خلوة في الظاهر.
وفي البيوتات الثلاثة أو الأربعة واحد بعد واحد إذا خلا بامرأته في البيت القصوى إن كانت الأبواب مفتوحة من أراد أن يدخل عليهما من غير استئذان لا تصح الخلوة وكذا لو خلا بها في بيت من دار وللبيت باب مفتوح في الدار إذا أراد أن يدخل عليهما غيرهما من المحارم أو الأجانب يدخل؛ لا تصح الخلوة، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(1/ 305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88550کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات