السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد سلام عرض ہے کہ ایک مسئلہ درپیش ہے، اس بارے میں رہنمائی مطلوب ہے۔زید نے اپنی زوجہ کے ساتھ جھگڑے کے دوران ایک بار یہ کہا کہ: "میں تمہیں طلاق دے دوں گا"،اور دو مرتبہ یہ کہا کہ: "میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے"۔اس موقع پر ان کا بیٹا بھی موجود تھا، جس نے فوراً ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بیٹا انہیں گھر سے باہر لے گیا۔اس کے بعد زید نے اپنی دو سالیوں اور ایک سالے کو فون کر کے کہا کہ:"میں نے آپ کی بہن کو طلاق دے دی ہے، آپ لوگ اسے اپنے گھر لے جائیں۔"
اب سوال یہ ہے کہ:
کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے؟اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں شمار ہوں گی — دو یا تین؟اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہوگی یا رجوع ممکن ہے؟براہِ کرم اس معاملے میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراًوالسلام!
صورت مسئولہ میں مسمیٰ زید کا دو مرتبہ اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں یہ کہنے سے کہ'' میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے'' اسسے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں جبکہ اس کے بعد اپنی سالیوں اور ایک سالے کو فون پر یہ کہنے سے کہ "آپ کی بہن کو طلاق دی ہے آپ لوگ اسے گھر لے جائیں" سے اگر زید کی نیت اپنی زوجہ کو مزید طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ پہلی دی ہوئی طلاق کی خبر دینا مقصود تھا ،تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،چنانچہ زید کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ زید زبانی طور پر یہ کہہ دے کہ میں رجُوع کرتا ہوں (وغیرہ )یا عملاً میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھو لے ،تو اس سے بھی رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا ، ورنہ دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلُیہ ختم ہو جائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ،اس کے بعد ایک ساتھ رہنے کے لیے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، بہر دوصورت آئندہ کے لیے زید کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملے میں خُوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار : (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم اھ(ج :3،ص:293)
کما فی الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح اھ(3/ 397)
وفی فتاوی الہندیہ :وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية.اھ(ج:1،ص 470)