ہماری دو بھابھیاں ہیں جو عرصۂ دراز سے سفلی (کالا جادو وغیرہ) عمل کرواتی ہیں اور ان کے ان اعمال کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان پہنچا ہے۔ پہلے تو ہمیں یقین نہیں آتا تھا، مگر جب گھر سے سفلی عملیات والے تعویذ ملے اور کسی عامل سے ان کی حقیقت معلوم کی گئی، تو پتہ چلا کہ یہ تعویذ کالے جادو کے ہیں اور پورے گھر اور اہلِ خانہ پر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں مشورہ دیا گیا کہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کریں اور پانی پر دم کرکے چھڑکیں، تاکہ اثرات ختم ہو جائیں، لیکن آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ وہ باز نہیں آ رہی ہیں، گھر سے اب بھی تعویذ ملتے رہتے ہیں۔میری اور میری بہن کی شادیاں ہو چکی ہیں، مگر شادی کے بعد ہماری زندگیاں سنبھلنے کے بجائے بگڑ گئیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ گھروں میں راشن تک نہیں رہتا، بیماریاں، پریشانیاں، کاروبار کی تباہی سب کچھ ہم پر آ چکا ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم دین سے دور ہیں؛ ہم نماز، قرآن اور دیگر اذکار کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم ان کے شر سے نہیں بچ پا رہے۔ہم نے دنیا جہان کی نرمی اچھا سلوک اور حسنِ اخلاق سے ان کا دل بدلنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان بھابھیوں نے ہمارے بھائیوں کو بھی ہم سے بدگمان کر دیا ہے۔ ہم جب ان کے گھر جاتے ہیں، وہ ہمیں لڑائی جھگڑے پر اکساتے ہیں، یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ اپنے شوہروں سے طلاق لے لو، یہ کچھ نہیں کماتے۔ہمیں پتا چلا ہے کہ چھوٹے بھائی کی بیوی کی ماں تعویذ بنوا کر انہیں دیتی ہے، اور یہ دونوں بھابھیاں رات بارہ بجے اور عصر کے وقت تسبیحیں پڑھتی ہیں۔ گھر سے الٹا قرآن پاک بھی ملا ہے، جس میں سورتیں اور آیات آگے پیچھے تھیں۔ وہ عورت رات کے وقت گھر کے بیچ میں بیٹھ کر پڑھتی تھی۔ ہمیں گھر میں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان عورتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کے اعمال بہت طاقتور ہیں اور یہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔ کیا ایسی عورتوں کو گھر میں رکھنا چاہیے؟
سوال میں ذکر کر دہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو محض سائلہ کا وہم نہ ہو ،تو سائلہ کی بھابیوں کا سفلی عملیات کے ذریعے سائلہ اور اس کی بہن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا شرعاً نا جائز عمل ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہو رہی ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار کر کے ائندہ کے لیے سفلی عملیات کرانے سے اجتناب کریں، جبکہ سائلہ کو اگر اپنی بھابیوں کے متعلق سفلی عملیات کرانے کا یقین ہو ،تو اسے چاہیے کہ از خود یا خاندان کے با اثر افراد کے ذریعے ان کو سمجھانے کی کوشش کرے ، اور اس کے ساتھ نمازوں کی پابندی اور صبح شام تین تین مرتبہ قرآن مجید کی آخری دو سورتیں (قل اعوذبرب الفلق اور اور قل اعوذ برب الناس ) پڑھنے کا اہتمام کرے ،انشاءاللہ امید ہے کہ اللہ تعالی سائلہ کو سفلی عملیات کے اثرات سے محفوظ رکھے گا۔