السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !میری نیت صرف قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ میرا معاملہ یہ ہے: 1. مجھے اپنی بیوی پر شک ہوا کہ وہ میرے ساتھ بے وفائی کر رہی ہے تو میرا جسم کانپنا شروع کر گیا اور میں نے اس کو مارنا شروع کر دیا اور گالی بھی بہت دی کہ میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی پھر وہ اپنی جان چھڑا کے بھاگی کمرے سے باہر، میں نکلا تو میں فرش پر گر گیا ،پھر میں اس کو مارنے کے لیے گیا تو امی اور بہن نے پکڑ لیا تو بس غصے میں تین طلاقیں بول دی ہیں، لیکن یہ سب غصے اور جذبات کی حالت میں ہوا، نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔ میں واپس رجوع کی طرف جانا چاہتا ہوں اور بیوی بھی اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور واپس گھر بسانا چاہتی ہے۔ 2. میں جاننا چاہتا ہوں: کیا یہ تین طلاقیں تین شمار ہوں گی یا ایک شمار ہوگی؟ کیا میں قرآن و سنت کے مطابق رجوع کر سکتا ہوں؟ 3. میں کسی فقہی مسلک کا پابند نہیں، صرف قرآن اور صحیح حدیث کے مطابق جواب چاہتا ہوں۔ براہ کرم واضح اور عملی رہنمائی دیں۔ جزاک اللہ خیر!
واضح ہو کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں ، خواہ یہ تینوں طلاقیں غصے کی حالت میں دی جائیں یا نارمل حالت میں بہرصورت وہ تین طلاقیں ہی شمار ہوتی ہیں ،جس پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اتفاق ہے،اور امت کے چاروں اماموں ،یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے جب غصہ کی حالت میں تین طلاقیں دیدی ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ با ہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام ِعدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
جبکہ حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،چنانچہ اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی صحیح البخاری : و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك الخ( کتاب الطلاق، باب من قال لامرأتہ انت علی حرام،ج5،ص2015،ط:دار ابن کثیر)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلی هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز و جل - { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره [ البقرة: 230 ] ، و سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (فصل فی حكم الطلاق البائن ، ج: 3 ، ص: 187 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ( کتاب الطلاق، فصل فی ما تحل بہ المطلقہ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ)۔