کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ ۔۔۔۔ کا نکاح مسمی ” ۔۔۔۔۔“ کے ساتھ آج سے تقریباً ایک سال قبل ہواتھا ،ابھی ہماری رخصتی نہیں نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ہمارے درمیان خلوت وغیرہ ہوئی ،اس دوران دونوں خاندانوں کے درمیان رخصتی کی تاریخ پر کچھ اختلاف ہوا،جس کی وجہ سے میرے شوہر ”۔۔۔۔ نے تحریری طور پر واٹس ایپ کے ذریعہ طلاق بھیج دی،جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ” میں مسمی ف۔۔۔۔۔۔۔ بقائمی ہوش و حواس مسماۃ ۔۔۔۔۔۔کو دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں اور اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں “ ،وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکتی ہے،اور شادی کرسکتی ہے۔معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی؟ اور طلاق کی صورت میں حقِ مہر کا کیا حکم ہے؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو،تحریری فرمادیجئے۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر مسمی ” فیضان داؤد ولد محمد داؤد “نے اگر واقعۃً سائلہ کو رخصتی اور خلوتِ صحیحہ (ایسی تنہائی کہ جس میں ہمبستری سے کوئی مانع موجود نہ ہو ) سے قبل ہی مذکور الفاظ ” کہ میں مسمی فیضان داؤد ولد محمد داؤد بقائمی ہوش و حواس مسماۃ مصباح دلاور دختر محمد إلخ“ تحریرکرکے واٹسپ پر ارسال کیے ہو،تو ایسی صورت میں پہلے جملہ ”اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں “سےہی سائلہ مسماۃ ”مصباح دلاور بنت محمد دلاور“ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے،اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں،اور چونکہ اس صورت میں مطلقہ پر عدت لازم نہیں، اس وہ طلاق کے بعد جلد یا بدیر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے،نیزسائلہ کے شوہر کے ذمہ سائلہ کو مقررشدہ مہر میں سے نصف مہر کی ادائیگی لازم و ضروری ہے،البتہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو نئےحقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا،اور اس صورت میں آئندہ کیلئےشوہر کو فقط دوطلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: کتب الطلاق، إن مستبینا علی نحو لوح وقع إن نوی، و قیل مطلقا، و لو علی نحو الماء فلا مطلقا۔إلخ۔
و فی الرد تحت: (قولہ کتب الطلاق إلخ) قال فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین: مرسومۃ و غیر مرسومۃ، و نعنی بالمرسومۃ أن یکون مصدرا و معنونا مثل أن یکتب إلی الغائب، و إن کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ إن نوی الطلاق یقع و إلا لا وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو۔إلخ(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 246، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية إلخ(کتاب الطلاق، الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول، ج: 1، ص: 373، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (کتاب الطلاق الباب السادس، ج: 1 ص: 472، ط: ماجدیۃ)
وفیھا أیضاً: أربع من النساء لاعدۃ علیھن المطلقۃ قبل الدخول إلخ(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج: 1، ص: 526، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) إلخ(کتاب النکاح، باب المھر، ج: 3، ص: 104، ط: سعید)۔