طلاق

آئس کے نشہ میں دی گئی طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
88368
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام طلاق / طلاق

آئس کے نشہ میں دی گئی طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی مسمیٰ نیاز اللہ آئس کے نشہ کا کافی عرصہ سے عادی ہیں اور کئی دفعہ اس کا علاج بھی کروایا گیا، لیکن کچھ عرصہ ٹھیک رہنے کے بعد دوبارہ اس نشہ میں مبتلا ہوجاتا اوراس کی وجہ سے اس کا دماغ کافی حد تک خراب ہوچکا ہے، بہکی بہکی باتیں کرتا ہے، پچھلے سال اس نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے ”پہ ماباندی طلاقہ یے، پہ ماباندی طلاقہ یے، پہ ماباندی طلاقہ یے، (مجھ پر طلاق ہو، مجھ پر طلاق ہو، مجھ پر طلاق ہو)
جس رات یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت بھی اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔
جب یہ اوپر گھر سے نیچے اتر آیا تو اس نے بیوی کو کہا میں اپنے لیے انڈہ پکارہا ہوں اور اپنی بیٹی مسماۃ ملائکہ کو انڈے لانے کو کہا، جب وہ انڈے لیکر آئی تو کہا کہ اس کو کیسے توڑتے ہیں؟ مجھے تو اس کا طریقہ نہیں آرہا، پھر اس نے دونوں انڈے آپس میں ایک دوسرے کو مارکر توڑے اور کسی طرح سے وہ انڈے پکالیے، پھر پکانے کے بعد ”توے“ کو کہنے لگا کہ پکالیا ہےتمہارے لیے، اب کھا کیوں نہیں رہے ہو ؟
اسی طرح جب پانی کا جگ منگوایا تو جگ ہاتھ میں لیکر مٹکے میں ڈالنے لگا، حالانکہ مٹکے کا منہ چھوٹا تھا اور وہ زبردستی اس مٹکے میں جگ ڈالنے کی کوشش کررہا تھا،
پھر جب اپنے کمرے گیا اور الماری کھولی تو سامنے شہد کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں تو ان بوتلوں کو کہنے لگا کہ تم میری الماری میں کیا کررہے ہو؟ تمہیں کیا ضرورت تھی میری الماری میں آنے کی۔پھر میری بھابھی اس کے لیے دودھ لیکر گئی تو وہ دودھ واپس کردیا اور کہا کہ شاید تم نے اس میں کچھ ملایا ہو، اور دودھ لیکر آؤ میرے لیے۔پھر اس کے کچھ ہی دیر بعد اپنے بیٹے مسمیٰ حارث کو بھی کمرہ میں بلا کر کہ کچھ باتیں کیں اور آخر میں یہ کہا کہ ” پہ ماباندی طلاقہ یے، پہ ماباندی طلاقہ یے، پہ ماباندی طلاقہ یے،“ اور پھر کمرہ سے باہر نکل کر زور زور سے یہی الفاظ طلاق کہے۔
اگلے دن جب میری بھابھی کے چچااپنی بھتیجی کو لینے آئے تو ان کے سامنے بھی یہی کہا کہ میں نے طلاق دی ہے، لیکن جب اسی دن ڈاکٹر کے پاس اس کو لیکر گئے تو ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد اس کو باہر بھجوادیا اور ہمیں ڈاکٹر نے کہا کہ اس بندہ کا دماغ خراب ہے، پھر ڈاکٹر نے کہا اس طرح کا مریض جب ہمارے پاس لایا جاتا ہے تو یا تو وہ قتل کرچکا ہوتا ہے یا پھر گھر میں کسی کو کوئی بڑا نقصان پہنچاچکا ہوتا ہے، اس نے کہیں قتل تو نہیں کیا نا؟ ہم نے کہا کہ نہیں! قتل تو نہیں کیا، البتہ بیوی کو طلاق دی ہے، تو اس کی کنڈیشن دیکھنے کے بعد وہ ڈاکٹر بھی اس بات پر قائم ہے کہ اس بندہ کا دماغ خراب ہے اور اس کی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، میں دنیا وآخرت میں اس بات کا ذمہ دار ہوں، چنانچہ مجھے اگر کسی جرگہ میں بلایا جائے یا کسی مفتی کے پاس بلایا جائے تو میں وہاں بھی اپنا بیان دینے کو تیار ہوں گا کہ اس بندہ کا دماغ خراب ہوچکا ہے اور اب یہ ایک نارمل انسان کی طرح نہیں ہے۔اور اس کو ڈاکٹر نے تقریباً سات بار برقی جھٹکے بھی دیے اور کہا کہ اس کا دماغ باالکل ختم ہوچکا ہے ۔ اور ڈاکٹر نے دوائی وغیرہ دی، گھر آکر ایک دو دن اس کو دوائی پلائی ، پھر جب میری بڑی بہن مسماۃ عشرت نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کردیا ہے؟ تو کہنے لگا کہ یہ تو اس (مولانا سمیع اللہ) نے مجھے کہا کہ اس طرح بولو۔
اس کے بعد جب اپنے گاؤں کے مدرسہ میں اس کو لیکر گئے تو وہاں اس نے طلاق کا اقرار کیا کہ ہاں میں نے طلاق دی ہے۔
ہم نے پھر اس کا تقریباً چار ماہ مستقل علاج کروایا اور ”باچا خان میڈیکل کالج، مردان میڈیکل کمپلیکس“ میں زیر علاج رہا، علاج مکمل ہونے کے بعد جب وہاں سے آیا تو اب کہتا ہے کہ میں نے تو یہ الفاظ کہے ہی نہیں ہیں، مجھے تو یاد ہی نہیں ہے۔
اب ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

مزید وضاحت : جس رات طلاق کا واقعہ پیش آیا اس موقع کی تفصیلات بیوی نے ایک وائس کلپ میں بیان کرکے ارسال کیا ہے ،جس کا حاصل اور لب لباب یہ ہے کہ یہ (یعنی میرا شوہر ) سات ماہ سے ایسا تھا ،اس رات بھی مجھے ان کی حرکات سے شک ہوا کہ اس نے کچھ (یعنی نشہ ) کیا ہے ، میں روٹی پکارہی تھی ،یہ میرے پاس آئے اور کہا کہ یہاں سے اٹھو میں توے پر اپنے لئے انڈے پکاتا ہوں ،جب میں نے انہیں انڈے لاکر دیئے تو بچوں (انس اور دیگر ) سے کہا کہ مجھے تو طریقہ نہیں آتا یہ کیسے پکائے جاتے ہیں ؟ دونوں انڈوں کو ایک دوسرے پر مار دوں تاکہ یہ ٹوٹ جائیں ،پھر انہوں نے ایساہی کیا ،تو وہ انڈے بہہ کر ضائع ہونے لگے تو بیٹے انس نے کہا کہ ابو یہ تو آپ نے خراب کردیے ان کو جلدی توے پر ڈال دیں ،(بیوی کا کہنا کہ اس وقت تو میں وہاں موجود نہیں تھی تاہم بعد میں بیٹے نے کہا کہ اس نے توا چولہے سے اتارا تو توے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب کھائے نا ،اس وقت میں نے گھر میں موجود لڑکیوں سے کہا کہ جلدی سو جائیں (ان سے زیادہ بات چیت نہ کریں )کہ یہ ٹھیک نہیں لگ رہا ،اور بیٹے سے بھی یہی کہا پھر جب میں دوبارہ کمرے گئی تو مجھے شوہر نے کہا کہ مجھے دودھ لاکر دو ،جب میں دودھ لاکر دینے لگی تو یہ باہر نکلے اور دودھ رکھ دیا اور کہا کہ برتن سے مزید دودھ دو اس میں کچھ آپ نے ملایا ہوگا ، میرا دیا ہوا دودھ اس نے رکھا اور خود برتن سے اپنے لئے دودھ لیا، پھر جب کمرے آیا تو الماری کا دروازہ کھولا ،تو وہاں شہد کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں تو انہوں نے کہا کہ یہ یہاں کیوں رکھی گئی ہیں اور یہ یہاں کیوں آئی ہیں ، میں ان سے بات چیت نہیں کرسکتی تھی، اس لئے میں خاموش تھی ، پھر اس نے (اپنے بیٹے کا نام لیتے ہوئے کہا ) کہ حارث برباد ہوگیاو میں نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیا کیا ہے کہ آپ یہ باتیں کررہے ہیں ؟ تو اس نے کہا ،کسی نے کچھ نہیں کیا ، پر میں نے کیا ہے ، میں نے آئس کا نشہ شروع کیا ہے، کل لوگ میرے بیٹے کو کہیں گے کہ یہ نشائی کا بیٹا ہے (اور یوں ان کا کردار خراب ہوگا ) پھر میں باہر نکلنے لگی تو مجھے کہا کہ میں حارث کو بلاتا ہوں ، تم کیوں جارہی ہو ؟ تو میں نے کہا کہ مجھے آپ سے ڈر محسوس ہورہا ہے ، اس لئے میں بچوں کے ساتھ سونے جارہی ہوں تو اس نے بیٹے حارث کو بلایا ،پھر اس کے ساتھ بات چیت اور(بیوی کے بقول ) مکالمہ ہوا باتوں میں ربط اور جوڑ نہیں تھا ، بیٹا کچھ کہتا اور والد کچھ کہتا (بیوی نے وہ سارا مکالمہ ذکر نہیں کیا ) تو میں نے بیٹے سے کہا کہ میں جارہی ہوں سونے، تم جانو اور تمہارا والد جانے ،جب میں نکلنے لگی تو اس نے یہ الفاظ کہے ۔
نیز اس کے متعلق مذکور شخص کے بیٹے محمد حارث کا کہنا ہے کہ میں اس وقت موجود تھا میرے والد صاحب کی حرکات و سکنات سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ نارمل حالت میں نہیں تھے پا گلوں جیسی حرکات کررہے تھے لیکن میں نے انہیں نشہ کرتے وقت دیکھا نہیں ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اگر کوئی شخص نشہ آور چیز کے استعمال سے اس حالت میں پہنچ جائے کہ اس کا ذہنی توازن معمول کے مطابق نہ رہے اور وہ اس نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو فقہاء کرام ۔ رحھم اللہ ۔ کی تصریحات کے مطابق ایسی کیفیت میں بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے بھائی (مسمیٰ نیاز اللہ ) نے جس رات اپنی بیوی کو طلاق دی تھی ، اس وقت اگر وہ نشے کی حالت میں تھا اور نشہ آور چیز کے استعمال سے اس کا ذہنی توازن عام حالت پر نہیں تھا ، تب تو اس حالت میں دی جانے والی طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں ،لیکن اگر اس وقت وہ نشہ کی حالت میں نہیں تھا بلکہ ماضی میں آئس کے مسلسل استعمال کے باعث اس کا ذہنی توازن مکمل طور پر درست نہیں تھا تو ایسی صورت میں بھی اگر اس کی ذہنی حالت اس حد تک خراب نہیں تھی کہ وہ اچھے اور برے کی تمییز سے بالکل محروم تھا ، بلکہ اسے اچھے برے میں تمییز تھی اور اس کے اقوال و افعال میں عادت کے مطابق ربط و ضبط تھا (جیسا کہ سوال سے بظاہر ایسا ہی معلوم ہورہا ہے ) تو ایسی صورت میں اس حالت میں دی جانے والی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الشامیۃ:(قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ. وفي البحر عن الخانية: رجل عرف أنه كان مجنونا فقالت له امرأته: طلقتني البارحة فقال: أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله (243/3)جلد3، کتاب الطلاق، مطلب فی تعریف السکران و حکمہ، ص: 239
وفیہ ایضاً : والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر، ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش. ويؤيده ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا، والمجنون ضده ۔۔۔۔۔ وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح (244/3)
وفیہ ایضاً:وبه ظهر أن المختار قولهما في جميع الأبواب فافهم. وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق، والبيع والإقرار، وتزويج الصغار من كفء، والإقراض والاستقراض لأن العقل قائم۔۔(239/3)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88368کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات