میری بیگم صاحبہ گزشتہ ساڑھے پانچ ماہ سے اپنے والد کے گھر میں میرے ساتھ لڑائی کر کے گئی ہوئی ہے، اور بار بار ایک ہی بات کر رہی ہے کہ مجھے اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا کیونکہ میرے پاس کام نہیں تھا، اس وجہ سے زبردستی گھر چھوڑ کر چلی گئی اور ساتھ میں ہمارے بچے جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، ان کو بھی ساتھ لے گئی ہے، جن کی عمر بڑی بیٹی آٹھ سال چھو ٹی بیٹی ساڑھے پانچ سال اور بیٹا ساڑھے پانچ سال کے ہیں ،اس میں رہنمائی کریں کہ ایسی بیوی نان نفقہ کی حقدار ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ نکاح کے بعد میاں بیوی کوحسن معاشرت کے ساتھ اس نکاح کےبندھن کو قائم و دائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے اور اگر میاں بیوی میں سےکسی ایک میں بھی کوئی خامی یا کمی کوتاہی ہو تو افہام و تفہیم کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ، لہذا سائل کی بیوی کا اپنا گھر چھوڑ کر والدین کے ہاں بیٹھ جانا کسی صورت بھی درست نہیں بلکہ اسے شوہر کے ساتھ پائے جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے اپنا گھر آباد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے ، اور سائل پر بھی لازم ہے کہ وہ کام کاج میں کوتاہی کرنے اور بیوی کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرے، تاہم جب تک سائل کی بیوی سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر والدین کے ہاں رہائش پذیر ہے، تو ناشزہ ہونے کی وجہ سے وہ اس دوران نان و نفقہ کی حقدار نہ ہوگی، البتہ بچوں کے خرچ و اخراجات شرعاً سائل کے ذمہ اس کے وسعت کے مطابق لازم ہوں گے۔
کما فی الدر المختار: بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به الخ۔ (باب النفقۃ، ج:3، ص: 600، ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها (الی قولہ) قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر الخ۔ (باب النفقۃ، ج:3، ص:600، ط: دار الفکر)۔
وفی الفتاوی الہندیہ: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه الخ۔(کتاب النفقات، ج:1، ص:545 ، ط: رشیدية)۔
وفی الفتاوی الہندیہ: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي الخ۔( کتاب الطلاق ،الباب السادس عشر فی الحضانة، ج:1، ص:543، ط: رشیدية)۔