میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا ہوں، میری تنخواہ پر بہت زیادہ ٹیکس لگتا ہے،کمپنی نے ٹیکس کم کروانے کے لیے میری تنخواہ کا کچھ حصہ فیول الاؤنس میں ڈال دیا ہے،ہم جعلی فیول کی رسیدیں دیتے ہیں، جن کی بنیاد پر ہمیں وہ رقم مل جاتی ہے اور اس پر ٹیکس بھی نہیں لگتا، کمپنی کو بھی معلوم ہے کہ یہ رسیدیں جعلی ہوتی ہیں،اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ درست ہے؟ جبکہ حکومت نے جو ٹیکس مقرر کیا ہے، ہم ان جعلی فیول سلیپس کے ذریعے اس سے بچ جاتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں کمپنی، ملازم اور متعلقہ افراد کا حکومت کی جانب سے عائد کردہ جائز ٹیکس سے بچنے کی خاطر جعلی فیول سلیپس بنا کر تنخواہ کے ایک حصے کو غیر حقیقی طور پر "فیول الاؤنس" ظاہر کرنا شرعا ناجائز، گناہ، اور دھوکہ دہی میں داخل ہے، لہذا مذکور کمپنی کے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے اجتناب کرے اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے اس کے لیے کوئی جائز قانونی حل تلاش کریں۔
فی مسند احمد: (عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب)۔ (مسند الأنصار، تتمة مسند الأنصار، ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
وفی صحیح مسلم: (عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا)۔ (باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 99، رقم: 101، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)
و فی جامع الترمذی: (عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنهما قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن الغادر ینصب لہ لواء یوم القیامة)۔ (أبواب السیر، باب ما جاء أن لکل غادر لواءً یوم القیامة، ج: 1، ص: 287، ط: المكتبة الأشرفیة دیوبند)۔