السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم جناب! میرا پرنٹنگ کا کام ہے۔ میں بالوں کی مہندی کی پیکنگ پرنٹ کرتا ہوں، جس پر انسان کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ میرا گاہک نہایت شریف، نیک اور تبلیغی جماعت سے وابستہ شخص ہے۔ مارکیٹ کے رجحان اور نقل (کاپی) سے بچنے کی ضرورت کے پیشِ نظر وہ اس تصویر کو استعمال کر رہا ہے، کیونکہ اس تصویر کا کاپی رائٹ بھی اسی کے پاس ہے۔ اگر تصویر شامل نہ کی جائے تو پروڈکٹ کی نقل آسانی سے بن جاتی ہے۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایسی صورتِ حال میں اس طرح کے تصویر والے مال کی پرنٹنگ شرعاً درست ہے؟ براہِ کرم جلد رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ کسی جاندار کی تصاویر بناکر اس کا پرنٹ آؤٹ نکالنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ گناہِ کبیرہ ہے، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ سائل کے لیے جاندار کی تصاویر پر مشتمل کسی بھی پیکنگ کا پرنٹ کرنا جائز نہیں، لہذا جو کسٹمر اپنے پرنٹینگ میں جاندار کی تصاویر شامل کرتا ہے تو سائل کیلئےان سے آرڈر لینا بھی درست نہ ہوگا، البتہ جن پیکنگ وغیرہ میں جاندار کی تصاویر واضح طور پر نظر نہ آرہی ہو بلکہ اس تصویر میں چہرے کے خدوخال کو بلر کر دیا گیا ہو تو ایسی صورت میں کسٹمر کے لئے وہ پرنٹ بنوانا اور سائل کا اسے بنا کر دینا ہر دو امور شرعاً جائز ہونگے۔
کمافی مشکوۃ المصابیح: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان النبی ﷺ قال:اشد الناس عذابا یوم القیٰمۃ الذین یضاھون یخلق اللہ متفق علیہ۔الحدیث(ج2 صـ385 باب التصاویر ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: قال اصحابنا وغیرھم من العلماء: تصویر الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث، سواء صنعہ فی ثوب، او بساط، او درھم، او دینار، او غیر ذلک الخ(8 صـ266 باب التصاویر ط: حقانیۃ)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: قال الرداوی فی الانصاف (1/474)"یحرم تصویر مافیہ روح، ولایحرم تصویر الشجر، ونحوہ، والتمثال مما لایشابہ مافیہ روح، علی الصحیح من الذھب ۔۔۔۔یحرم تعلق مافیہ صورۃ حیوان، وستر الجدار بہ، وتصویرہ علی صحیح المذھب" وبمثلہ قال: ابن قدامۃ فی المغنی(7/7) کتاب الولیمۃ الخ (ج4 صـ159 کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ط: دارالعلوم کراتشی)۔
ففي الدر المختار: (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح اھ(1/ 647)۔
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: تحت: (قوله ولبس ثوب فيه تماثيل) (إلی قوله) وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ (1باب مایفسد الصلاہ وما یکرہ فیھا، ج: 1، ص: 647، ط: سعید)-
وفي خلاصة الفتاویٰ: وإن کانت مفقطوع الرأس لا بأس به وکذا لو محی وجه الصورة فھو کقطع الرأس (إلی قوله) وإن کانت صغیرة لا تبدو للناظرین من بعید لا بأس به ثم التمثال إذا کان علی وسادة أو بساط لابأس باستعمالھا وإن کان یکره اتخاذ ھما لکن لا یسجد علی الصورة اھ (ج: 1، ص: 58)۔