طلاق

نکاح پر نکاح کرنے اور طلاق کے متعلق حکم

فتوی نمبر :
88298
| تاریخ :
2025-10-25
معاملات / احکام طلاق / طلاق

نکاح پر نکاح کرنے اور طلاق کے متعلق حکم

السلام علیکم
ایک لڑکا اور لڑکی نے گواہان کی موجودگی میں ایک کاغذ پر ہاتھ سے بنے ہوئے نکاح نامہ پر انگھوٹا لگایا، دستخط کیے ا یجاب و قبول کیا، لڑکے نے 5000 حق مہر ادا کیا اور کچھ عرصہ بعد لڑکی نے والدین کی مرضی پر ایک اور جگہ نکاح کے اوپر نکاح کرلیا اور کہا کہ وہ تو صرف ایک مذاق تھا اور میرا یہ نکاح زبردستی کروایا گیا ہے اب اس کی رخصتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فتویٰ جاری فرمایا جائے، جزاک اللہ
السلام علیکم
میرے شوہر نے مجھے زبانی کلامی نو بار طلاق کا لفظ بولا ہے لیکن کاغذات میں اس کی بیوی ہوں اور عرصہ چھہ سال سے مکمل لا تعلق ہیں، کیا میں نکاح کر سکتی ہوں یا نہیں؟ تحریری جواب صادر فرمایا جائے، تاکہ میں نکاح کر سکوں جزاک اللہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بسمہ تعالی ،صورت مسئولہ میں اگر مذکور لڑکی نے باقاعدہ گواہاں کی موجودگی میں پہلے لڑکے کے ساتھ نکاح کر لیا ہو اور وہ ان کا کفؤ بھی ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ یہ نکاح لڑکی کے والدین کی اجازت کے بغیر ہو، تب بھی منعقد ہو چکا ہے، اب اس شوہر سے باقاعدہ خلع یا طلاق لینے کے بعد اس کی عدت مکمل کرنے سے قبل دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں، اور پہلے نکاح کا علم ہوتے ہوئے دوسرا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا، لہذا اس لڑکی اور اس کے والدین پر لازم ہے کہ اولا پہلے کیا ہوا نکاح ختم کریں، اس کے بعد عدت مکمل کرنے پر ہی دوسری جگہ نکاح کا اہتمام کرے، جبکہ نکاح ختم ہونے کے لیے طلاق کا باقاعدہ تحریری طور پر دینا اور قانونی دستاویزات میں رجسٹر کرانا ضروری نہیں، بلکہ فقط زبانی طور پر طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر شوہر نے واضح اور صریح الفاظ (جیسے تجھے طلاق ہے یا طلاق دیتا ہوں) کے ذریعے اپنی بیوی کو تین یا اس سے زائد مرتبہ طلاق دیدی ہو، تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ قانونی دستاویزات میں یہ طلاق رجسٹر کرا کر اگر یہ نکاح ختم نہ کرایا گیا ہو، تو دوسری جگہ نکاح کرتے وقت قانونی مشکلات اور بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے دوسری جگہ نکاح سے قبل قانونی کا روائی مکمل کر لی جائے، تاکہ بعد کی پریشانیوں سے بچا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 9)
وفيه أيضا: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر (3/14) ... ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل إذ لم يحتج لنية به يفتى. (3/14-15، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف. وفي رد المحتار تحت (قوله: ليتحقق رضاهما) أي ليصدر منهما ما من شأنه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع الإكراه والهزل رحمتي. (3/21-23)
وفي الهندية: (الباب الأول في تفسيره شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه) ... (ومنها) الشهادة (كتاب النكاح،1/267)
وفيه أيضا: ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، (كتاب النكاح 1/270)
وفيه أيضا: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة (كتاب النكاح، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: مكتبة ماجدية)

وفي الدر المختار: (‌والبدعي ‌ثلاث ‌متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) وفي رد المحتار تحت (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 232-233، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا. (كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 349، ط: مكتبة ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88298کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات