السلام علیکم !میری شادی کے 2.5 سال ہوگئے ہیں ،اس دوران میرے اور میری بیگم کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے گئے ،ایک سال بعد میری بیٹی ہوئی ،جسکی پیدائش کے دوران کچھ مسئلے تھے ،کٹے ہونٹ اور تالو کے،جس کی وجہ سے میں ،میرا گھر اور میری بیگم بھی بہت پریشان تھی،اور ہماری لڑائی بڑھتی گئی اور کورٹ تک جا پہنچی ، جہاں پر میں اسے کافی مناتا رہا لیکن اس کے باجود بھی ان پر کوئی اثر نہیں پڑا اور میرے سسرال کی طرف سے بہت پریشر تھا ،منانے کے باجود بھی وہ بول رہی تھی میں چلوں گی،مگر وہ آئی نہیں ،اور ان کے گھر والوں نے مجھ پر کیس کیا ،خرچہ کا،بیوی اور بچی کا،کورٹ میں تین دفعہ پیشی ہونے کے بعد وہ پھر بھی نہیں آئی پیشی کیلئے ،اس دوران ان کے گھر والوں کی طرف اتنے معاملات ہوگئے کہ میں نے کاغذی طور پر طلاق دے دی ،مگر زبانی نہیں دی ،اور نہ ہی ہمارے درمیان زبانی کوئی ایسی بات ہوئی ،کورٹ کے حساب سے میں نے اسے Divorce دے دی ،مگر اسلامی حساب سے کیا میری Divorceہوگئی ہے؟ کیا اس میں کوئی گنجائش ہے؟ اور میری اہلیہ بھی بہت بول رہی ہے کہ میں نہیں مانتی ایسی Divorce کو مجھے اور میری بیٹی کو آپ کے ساتھ رہنا ہے،تو کیا اس میں کوئی گنجائش ہے دوبارہ رجوع کرنے کی ؟ براہِ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو جس طرح زبانی طو پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل مسمی ” محمد عادل “ نےسسرال کی جانب سے ذہنی دباؤ میں آکر بیوی کو تحریری طوپر تین طلاقیں دیدیں،تو اس سے بیوی مسماۃ ۔۔۔پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،جبکہ بیوی کے نہ ماننے کی وجہ سے اس طلاقِ مغلظہ کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اوربغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے ،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: کتب الطلاق، إن مستبینا علی نحو لوح وقع إن نوی، و قیل مطلقا، و لو علی نحو الماء فلا مطلقا۔إلخ۔
و فی الرد تحت: ( قولہ کتب الطلاق إلخ ) قال فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین: مرسومۃ و غیر مرسومۃ، و نعنی بالمرسومۃ أن یکون مصدرا و معنونا مثل أن یکتب إلی الغائب، و غیر المرسومۃ أن لایکون مصدرا و معنونا، و ھو علی وجھین مستبینۃ و غیر مستبینۃ، فالمستبینۃ ما یکتب علی الصحفیۃ و الحائط و الأرض علی وجہ یمکن فھمہ و قرائتہ وغیر المرسومۃ مایکتب علی الھواء والماء وشئی لایمکن فھمہ وقراءتہ ففی غیر المستبینۃ لایقع الطلاق وإن نوی، و إن کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ إن نوی الطلاق یقع و إلا لا وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو۔إلخ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 246، ط: سعید )۔
و فی الھدایۃ: و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ، لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا، و الأصل فیہ قولہ تعالی: ( فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ )۔إلخ( کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 2، ص: 92، ط: مکتبہ انعامیۃ )۔