السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال عرض ہے کہ کیا کسی مفتی یا عالم کی ویڈیو کے آخر میں اپنی کسی چیز (پروڈکٹ) کو بیچنا یا اس کی تشہیر کرنا جائز ہے؟ جیسے عطر، ٹوپی، تسبیح وغیرہ۔ اور کیا یہ دین کو بیچنے کے زمرے میں آئے گا ؟
واضح ہو کہ اگر بیان کا اصل مقصد دعوت و اصلاح ہو اور اس مقصد کو تجارتی رنگ نہ دیا جائے اور وہ پروڈکٹ بھی شرعاً حلال ہو، کسی ناجائز چیز یا دھوکے پرمشتمل نہ ہو توکسی وعظ یابیان کی ویڈیو کے آخر میں ایسی پروڈکٹ کی تشہیر کرنے کی گنجائش ہے۔ البتہ کسی عالم یا مفتی کی ویڈیو اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کی غرض سے اپ لوڈ کرنا نامناسب عمل ہے، جس سے گریز کرنا چاہیئے۔
کما فی سنن أبی داود: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح، عن أبي طوالة عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الأنصاري، عن سعيد بن يسار، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله عز وجل لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة) يعني ريحھا۔الحدیث۔(باب فی طلب العلم لغیر اللہ تعالی، ج 3، ص 323، رقم:3664، ط: المکتبۃ العصریۃ)۔
و فی الدر المختار: (رجل تعلم علم الصلاۃ أو نحوہ لیعلم الناس و آخر لیعمل بہ فالأول أفضل) إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ و روی إلخ) و کذا الاشتغال بزیادۃ العلم إذا صحت النیۃ(إلی قولہ) و صحۃ النیۃ أن یقصد بھا وجہ اللہ تعالیٰ لا طلب المال و الجاہ إلخ۔ (کتاب الحظر و الإباحۃ، فصل فی البیع، ج 6، ص 407، ط: سعید)۔